گلگت بلتستان کا آئندہ مالی سال 22-2021 کا105 ارب 92 کروڑ کا بجٹ پیش کر دیں گیا

25

گلگت،26 جون (اے پی پی ): گلگت بلتستان کا آئندہ مالی سال 22-2021 کا سالانہ بجٹ پیش کردیا گیا۔وزیر خزانہ گلگت بلتستان جاوید منوا نے بجٹ اسمبلی میں پیش کیا۔گلگت بلتستان میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے بعد اس پہلا بجٹ  کا کل حجم 105 ارب 92 کروڑ 95 لاکھ 39 ہزار روپے ہے، جس میں غیر ترقیاتی اخراجات کیلئے 51 ارب 70 کروڑ 3 لاکھ 98 ہزار روپے اور ترقیاتی اخراجات کے لیے 44 ارب 22 کروڑ 91 لاکھ 31 ہزار روپے رکھے گئے ہیں۔اس بجٹ میں گندم سبسڈی کے لیے 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔نئی مالی سال میں ریونیو کا حدف 2 ارب رکھا گیا ہے۔

مالی سال21-2020 میں گلگت بلتستان کا مجموعی بجٹ 68 ارب 68 کروڑ تھا جو کہ مالی سال 22 -2021 کے بجٹ سے 54 فیصد کم ہے۔ اس بجٹ میں سکیل 1 سے 22  تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کی تجویز دی گئی ہے اور ملازمین کی کم از کم اجرت 20 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

وفاق کی طرز پر اردلی الاؤنس  کو 14 ہزار سے بڑھا کر 17 ہزار کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ملازمین کےintegrated Allowance  کو 450 روپے سے بڑھا کر 900 روپے ماہانہ کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔شعبہ  برقیات کے 94 منصوبوں کے لیے 16 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

 محکمہ تعلیم کے لئے 48 کروڑ 45 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ محکمہ صحت کی 97 سکیموں کے لیے 4 ارب15 کروڑ 97 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔ محکمہ تعمیرات عامہ کی مختلف سکیموں کے لیے 3 ارب 96 کروڑ روپے، محکمہ آ بپاشی کے 18 منصوبوں کےلئے 3 کروڑ 68 لاکھ روپے کی تجویز دی گئی ہے۔اسی طرح محکمہ فزیکل پلاننگ وہاوسنگ کے لیے 48 کروڑ 40 لاکھ روپے،محکمہ مواصلاتی نظام لئے 1 ارب 27 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔