سیالکوٹ،10جولائی (اے پی پی):معاون خصوصی وزیر اعلی پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ اپوزیشن آزاد کشمیر کی چند سیٹوں کیلئے مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی نہ کرے، مخالف ٹولہ کشمیر پر منفی سیاست کرکے عمران خان کو للکار رہاہے۔قوم اس ٹولے کو حیرانگی سے دیکھ رہی ہےیہ مودی کو اپنے گھر میں شادیوں پر بلاتے ہیں۔یہ وہ چہرے ہیں جو کشمیر یوں کے زخموں کو کرید چکے ہیں۔
ہفتہ کو یہاں انسداد ڈینگی سمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا کشمیری پاکستان کی قیادت کی طرف دیکھ رہا ہے۔عمران خان کی قیادت میں دنیا کے ضمیر کو جھجوڑنے کیلئے پاکستان کی خارجہ پالیسی کام کررہی ہے۔ہماری توپوں پر رخ مودی کی جانب ہونا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن آزاد کشمیر کی چند سیٹوں کیلئے مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کے زخموں پر نمک پاشی نہ کرے۔اپوزیشن کشمیریوں کی آنکھ میں روشن امید کو چراغ کو بجھانے کی کوشش نہ کرے۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مظلوم کشمیریوں کی بے بسی کا مذاق نہیں اڑانے دیں گے،آزاد کشمیر کا الیکشن قومی واحدانیت کا باعث بننا چا ہیے ۔کشمیر بنے گا پاکستان کے اسی نعرے کو آگے بڑھائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پر امن افغانستان پرامن پاکستان کی ضمانت ہے۔پاکستان نے 90ہزار قربانیاں دیکر امن کی بھاری قیمت ادا کی ہے۔
معاون خصوصی وزیر اعلی پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پنجاب حکومت ڈینگی کے روک تھام کیلئے کوشاں ہے۔عوام میں ڈینگی سے بچنے کیلئے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔کمیونٹی میں شعور اجاگر کرنے کیلئے لیڈی ہیلتھ ورکرز کی کوششیں قابل تعریف ہیں،اصل انفارمیشن منسٹر، لیڈی ہیلتھ ورکرز ہیں۔ حکومتی اقدامات پہنچانے میں سب سے اہم رول لیڈی ہیلتھ ورکرز کا ہے۔ہماری بہنیں گھر گھر پولیو، ڈینگی ,ملیریا سمیت تمام بیماریوں کے تدارک کیلئے صحت کا پیغام پہنچا رہی ہیں۔حکومت پنجاب نے لیڈی ہیلتھ ورکرز کو ان کا حق دینے کیلئے اقدامات کئے ہیں۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور بااختیار بنائے بغیر سماجی ناہمواریوں کا خاتمہ ناممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کنکریٹ کے جنگل بنادیئے گئے،میٹرو اور اورنج ٹرین جیسے منصوبے بھاری شرائط پرقرضے لیکر کمیشن مافیا نے بنائے۔وہ پیسہ جو آنے والی نسل کو صحت مند اور توانا پاکستان کیلئے خرچ ہونا چاہئے تھا وہ رنگ بازی پر خرچ کیا گیا۔ہیلتھ کارڈ کے ذریعے پنجاب کے 2کروڑ 92لاکھ خاندان 98ارب روپے سے مستفید ہونے جارہے ہیں۔یونیورسل ہیلتھ پروگرام سے 7لاکھ 20ہزار سے 10لاکھ روپے تک کی ہیلتھ انشورنس فراہم کی جارہی ہے۔اب کوئی پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتال کے سامنے ایڑیاں رگڑ کر نہیں مرے گا۔انہوں نے کہا کہ ضلع سیالکوٹ میں 1962کے بعد کوئی نیا ہسپتال نہیں بنا،یہاں کوئی کوالٹی ہسپتال نہیں،مریض لاہور پہنچتے پہنچتے زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔سیالکوٹ میں1ہزار بیڈ پر مشتمل ہسپتال بنایا جارہا ہے۔چائلڈ اینڈ مدر ہسپتال تعمیر کیا جارہاہےتاکہ زچہ بچہ کی زندگی کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ لیڈی ہیلتھ ورکرزکو کوالٹی ٹریننگ دینے جارہے ہیں۔دیہی آبادی کو ہیلتھ کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہیلتھ کیئر سیکٹر کو مضبوط بنایا جارہا ہے۔سیف ڈیلیوری کو یقینی بنانے کیلئے قوقی صحت کارڈ ہم کردار ادا کرے گا ۔