اسلام آباد،7جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے، موجودہ حکومت جب اقتدار میں آئی تو ملک معاشی بحران کا شکار تھا، معیشت پر بے انتہاءقرضوں کا بوجھ تھا، کرنٹ اکائونٹ خسارہ 20 بلین ڈالر تھا، تین سالوں میں ہم نے کرنٹ اکائونٹ خسارہ صفر کیا، معاشی سمت درست کی، صنعتوں اور زراعت کو بحال کیا، گاڑیوں کی قیمتیں کم کی جا رہی ہیں، انتخابی اصلاحات پر اپوزیشن کی تجاویز کا انتظار ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں وفاقی وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں گزشتہ برس گندم، مکئی، چاول اور گنے کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، ہم نے قرضوں کی صورتحال کو بہتر بنایا، روزمرہ استعمال کی اشیاءکی قیمتوں میں استحکام پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں، نئی آٹو پالیسی میں نچلے طبقے کے مسائل کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پہلی مرتبہ گاڑی خرید رہے ہیں ان کے لئے خصوصی اقدام اٹھا رہے ہیں، نوجوانوں کے لئے بھی گاڑی کی سکیم لائی جائے گی۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ شوکت ترین میڈیکل چیک اپ کے لئے چھٹی پر ہیں، پیر کو وہ اپنے دفتر واپس آ جائیں گے۔ ایک اور سوال پر وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے فلور آف دی ہائوس پر اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات پر بات کرنے کی دعوت دی ہے، دو کمیٹیاں ہیں۔ ایک میں اسمبلی سے پاس ہونے والی قانون سازی پر گفتگو ہو رہی ہے، اپوزیشن چاہتی ہے کہ الیکٹورل ریفارمز بل کو واپس لایا جائے اور قومی اسمبلی میں دوبارہ بحث شروع ہو۔ انہوں نے کہا کہ دوسری کمیٹی میں الیکٹورل ریفارمز پر بات ہونی ہے، پیپلز پارٹی نے نوید قمر کو اپنا فوکل پرسن نامزد کیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے فوکل پرسن کی نامزدگی کا انتظار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 49 پوائنٹس کی ترامیم بھیجی ہیں، پی ایم ایل این اور پیپلز پارٹی کی تجاویز کا انتظار کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ پاکستان میں آٹو سیکٹر کی مجموعی گنجائش چار لاکھ 15 ہزار گاڑیاں تیار کرنے کی ہے، ہر گاڑی کی تیاری سے 5 ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے میکرو اکنامک انڈیکٹرز کو بہتر بنایا اور اب ہم ترقی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ برس ایک لاکھ 64 ہزار گاڑیاں تیار ہوئیں اور اگلے سال ہماری کوشش ہے کہ کم از کم تین لاکھ گاڑیوں کی پیداوار حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو ڈیمانڈ بڑھتی ہے، ہم نے مقامی طور پر تیار ہونے والی ایک ہزار سی سی تک کی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی ختم کر دی ہے، اس کے بعد ایک ہزار سی سی تک کی گاڑی کی قیمت میں ایک لاکھ 42 ہزار روپے تک کمی ہوگی، کلٹس اور دیگر گاڑیوں کی قیمتوں میں ایک لاکھ 86 ہزار جبکہ سٹی، ٹویوٹا، یارس اور دیگر گاڑیوں کی قیمتیں بھی کم ہوں گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ گاڑیوں کی نئی قیمتوں کا اطلاق جلد کر دیا جائے گا، اس سے آٹو سیکٹر میں ڈیمانڈ اور پروڈکشن میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی پروڈکشن میں اضافہ سے ملک کے اندر اس سال تین لاکھ افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ مخدوم خسرو بختیار نے بتایا کہ موٹر سائیکل کے سیکٹر میں بھی کافی نمو دیکھنے میں آئی ہے، دیہی معیشت کے اندر جب پیسہ آتا ہے تو اس سے ڈیمانڈ بڑھتی ہے۔ اس سال 26 لاکھ موٹر سائیکل بنے اور اگلے سال 30 لاکھ موٹر سائیکل بنیں گے، چار لاکھ موٹر سائیکلوں کی پیداوار میں اضافہ سے 75 ہزار روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ پہلی مرتبہ گاڑی لیں گے ہم ان کے لئے آسانیاں پیدا کر رہے ہیں۔ ہم نے گاڑیوں کی اپ فرنٹ پے منٹس کو 20 فیصد کر دیا ہے جبکہ چھوٹی گاڑیوں کی قیمتوں میں بھی کمی کر دی ہے، لیزنگ کے طریقہ کار کو بھی آسان بنایا جا رہا ہے تاکہ لوگ آسان ماہانہ قسط پر اپنی گاڑی حاصل کر سکیں۔
مخدوم خسرو بختیار نے کہا کہ پائیدار نمو کے لئے ہمیں ملک کے انجینئرنگ اور مینوفیکچرنگ بیس کو بڑھانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم آٹو پالیسی کے اندر لوکلائزیشن پر فوکس کر رہے ہیں، یہ بہت بڑا سیکٹر ہے، اس کا مجموعی حجم 1200 ارب روپے ہے اور ساڑھے تین سو ارب ٹیکس دیتا ہے۔ اس سیکٹر کو عالمی مارکیٹ کے ساتھ منسلک ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے قیمتیں نیچے آئیں گی، ڈیمانڈ بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ پروڈکشن کیلئے وقت درکار ہوتا ہے، ڈیمانڈ سپلائی کا گیپ اور اون کا مسئلہ نمایاں ہو سکتا ہے، اس کے لئے ہم نے طے کیا ہے کہ جو شخص گاڑی خریدے گا وہ گاڑی اسی کے نام پر رجسٹر ہوگی۔ اگر گاڑی مینوفیکچرر نے ساٹھ دن سے زیادہ تاخیر کی تو اس پر کیبور(KIBOR )لاگو ہوگا۔ گاڑی کی آن لائن بکنگ ہوگی تاکہ ہر کسٹمر کو پتہ چل سکے کہ اس کی گاڑی مینوفیکچرنگ کے کس مرحلے پر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا فوکس گاڑیوں کی کوالٹی پر ہے۔ ہم ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں کے لئے بھی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ الیکٹرک گاڑیوں پر درآمدی ڈیوٹی 25 فیصد سے 10 فیصد کر دی گئی ہے تاکہ پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں آئیں تو ان کے لئے انفراسٹرکچر بن سکے۔ پاکستان میں تمام گاڑیوں کی قیمتیں کم ہو گئی ہیں، میری گاڑی سکیم پر ہماری زیادہ توجہ ہے، ہم پاکستان کے آٹو سیکٹر کی صلاحیت میں اضافہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ہماری کاوش ہے کہ ہم 2025ءتک پانچ لاکھ گاڑیوں کی پیداوار حاصل کریں۔
ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سات فیصد ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی کسٹمر کو چارج ہو رہی تھی، کورٹ میں کیس چل رہا تھا، ٹیوٹا، سوزوکی اور ہنڈا کے ساتھ طے ہوا کہ وہ پرانی اے سی ڈی جمع کروا دیں گے، آئندہ کیلئے ہزار سی سی تک اے سی ڈی صفر کر دی ہے اور اس سے اوپر دو فیصد کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مارکیٹ میکنزم پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگست کے پہلے ہفتہ میں آٹو پالیسی کابینہ میں پیش کریں گے۔