کراچی، 31 جولائی ( اےپی پی): شہرقائد میں کو رونا وائرس کی چوتھی خطرناک لہر ‘ڈیلٹا وائرس کے باعث لاک ڈاﺅن کے پہلے روز تمام کاروباری مراکز بنداور سرگرمیاں معطل رہیں جبکہ لاک ڈوان کے فیصلے پر عمل درآمد کیلئے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک رہے۔ صوبائی حکومت نے لاک ڈاؤن کا اعلان پورے صوبہ کیلئے کیا تھا تاہم ملک کے معاشی حب کراچی میں اس پر سختی سے عملدرآمدکرایا جارہا ہے جبکہ دیگر شہروں میں صورتحال مختلف ہے انٹرسٹی پبلک ٹرنسپورٹ کوکراچی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جارہی جس کی وجہ سے بیرونِ شہروں سے آنے اور جانے والے مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر کی مصروف سڑکیں اور کاروباری مراکز بھی سنسان رہے۔جبکہ تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے علاوہ انٹرمیڈیٹ کے امتحانات بھی عارضی طورپرملتوی کردیئے گئے ۔کاروبار کی بندش کے باعث چھوٹا کاروباری طبقہ خصوصاً دیہاڑی دار مزدور معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ مختلف صنعتی اور تجارتی تنظیموں نے صوبائی حکومت کی جانب سے لاک ڈاﺅن کے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ملکی معیشت متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے معاشی مسائل اور بے روزگاری میںبھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا ہے کہ کورونا کی وبا سے نمٹنے کے لئے ایس او پیز پرسختی سے عمل درآمداور مکمل لاک ڈوان کے بجائے اسمارٹ لاک ڈاﺅن جسے اقدامات کئے جائیں۔