فیصل آباد، یکم جولائی (اے پی پی): وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر انس سرور قریشی نے کہا کہ کرپشن معاشرے کیلئے ناسور ہے جو نہ صرف معاشی ترقی کی راہ میں زبردست رکاوٹ پیدا کرتی ہے بلکہ یہ سماجی اور اخلاقی اقدار کو بھی تباہ کر دیتی ہے۔
جمعرات کو اقبال آڈیٹوریم جامعہ زرعیہ فیصل آباد میں انسداد رشوت ستانی و کردار سازی کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ انسان تب انسان بن سکتا ہے جب وہ حلال حرام کے درمیان تمیز سیکھ لیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ تربیت کے بغیر تعلیم ادھوری ہے اور ایسی ڈگریوں کا کوئی فائدہ نہیں جن کو حاصل کر کے انسان حلال حرام کے درمیان فرق کو نہ جان سکے لہٰذا اس سے بہتر ہے کہ وہ کوئی ہنر سیکھ لے۔
وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ڈاکٹر انس سرور قریشی نے کہا کہ ہمارے پیارے نبیؐ نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی چوری کرتی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا۔انہوں نے کہا کہ جو عالم بے عمل ہے وہ عالم نہیں بلکہ انسان کے مرتبے سے بھی گر جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی طرح کی کرپشن کرپشن ہی ہوتی ہے جیسا کہ کوئی طالب علم جس کا فرض تعلیم حاصل کرنا ہے وہ پڑھنے کی بجائے ماں باپ کا پیسہ ضائع کر رہا ہے تو ایسا طالب علم بھی کرپٹ ہے۔اسی طرح جو استاد بچوں کو تعلیم و تربیت دینے کی بجائے ان کا وقت ضائع کر رہا ہے وہ استاد بھی کرپٹ ہے۔
ڈاکٹر انس سرور قریشی نے کہا کہ جووالدین بچوں کو اچھی تربیت نہیں دیتے اور ان کو حلال حرام کی تمیز دینے کی بجائے دوسری تمام آسائشیں مہیا کرتے ہیں وہ ماں اور باپ بھی کرپٹ ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہاں سے ہر فرد یہ پیغام لے کر جائے کہ وہ جس مقام پر بھی ہو وہاں اپنے منصب سے انصاف کرے نیز اگر وہ دفتر میں ہے تو موبائل استعمال کرنے اور گپیں ہانکنے کی بجائے اپنے فرائض پر توجہ دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں نیب کے آنے کا انتظار کرنے کی بجائے اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہر سطح کی کرپشن سے اپنے آپ کو پاک کرنااور خود احتسابی کو اپنانا چاہیے۔
قومی احتساب بیورو کے ڈائریکٹر سید محمد حسنین احمد نے کہاکہ نیب کا مشن کرپشن فری معاشرے کی تشکیل ہے جبکہ نیب اب تک 553بلین روپے کی لوٹی ہوئی رقم لوگوں کو واپس دلوا چکا ہے اور ادارہ کی جانب سے مختلف سطح کی کرپشن پر مختلف شقوں کی صورت میں سزائیں تجویز کی گئی ہیں لہٰذا کوئی بھی اگر کرپشن کرے گا تو اسے جواب دہ ہونا پڑے گانیز ملزمان سے لوٹا ہوا پیسہ واپس لے کر اصل حقداران کو لوٹانا ہمارا فرض منصبی ہے۔ انہوں نے کہاکہ چیئر مین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں ادارہ برق رفتاری سے کرپشن کے خاتمہ اور سرکاری وسائل کی لوٹ مار میں ملوث افراد کے خلاف کاروائی کر رہا ہے جبکہ کئی چوٹی کے سیاستدانوں اور اہم بیورو کریٹس کے خلاف نہ صرف کاروائی کی گئی ہے بلکہ بعض افراد کو 10سال تک کسی بھی عہدہ کیلئے نا اہلی کی سزا بھی دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیئر مین نیب کی ہدائت پر یونیورسٹیز و کالجز میں آگاہی سیمینار ز منعقد کئے جا رہے ہیں تاکہ نیب کے حوالے سے عوام میں شعور و آگاہی پیدا کرنے سمیت انہیں نیب کے کام کرنے کے طریقہ کار، اس کے قوائد و ضوابط اور اس کے دائرہ اختیار کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہو سکیں۔
ڈائریکٹر نیب نے کہاکہ ہم اپنی زیادہ تر انکوائریاں 3 ماہ میں مکمل کر لیتے ہیں اور 6ماہ کے اندر اندر ریفرنس دائر کر دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمارے پاس جتنی بھی شکایات آتی ہیں سب سے پہلے ہمارے افسران اس شکائت کی انکوائری کرتے ہیں کہ آیا مذکورہ شکائت یا کیس نیب کے دائرہ اختیار میں ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ ذاتی و انفرادی نوعیت کی شکا یات ہمارے دائرہ اختیا ر میں نہ آتی ہیں لیکن ہم مس یوز آف اتھارٹی کے کیسز پر پہلے ہی کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کرپشن کے اداروں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان میں اس وقت تین قسم کے ادارے کرپشن کے خلاف کام کر رہے ہیں جس میں اینٹی کرپشن کا ادارہ صوبے کے ملازمین کی کرپشن کے خلاف شکایات درج کرتا ہے، دوسرا ایف آئی اے ہے جو وفاق کے ملازمین کی شکایات درج کرتا ہے جبکہ تیسرا ادارہ نیب ہے جو کہ وفاقی و صوبائی سطح کی کرپشن کے ساتھ ساتھ کار وباری،سیاسی سمیت ہر فرد کی کرپشن کے خلاف شکایات درج کرتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس کے علاوہ نیب اقربا پروری، نیپوٹزم اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی شکایات پر بھی کاروائی کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس سطح کے بہت سارے کیس ہمارے پاس درج ہیں جن پر تیزی سے کام ہو رہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جس کرپٹ فرد پر نیب ہاتھ ڈالتا ہے وہ نشان عبرت بن جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے بڑی عبرت کیا ہے کہ جو کار وباری سطح کی کرپشن کرتا ہے وہ نیب کے قانون کے مطابق کبھی کسی بینک سے قرض نہیں لے سکتا جبکہ جو سرکاری ملازم کرپشن کرے اسے لوٹی ہوئی رقم اور جائیداد بھی واپس کرنا پڑتی ہے اور وہ ملازمت سے بھی ہمیشہ کیلئے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔اس کے علاوہ جو سیاستدان کرپشن کرے وہ 10سال کیلئے نا اہل قرار پاتا ہے اور و ہ کسی بھی سطح پر الیکشن نہیں لڑ سکتا۔
اس موقع پر ڈپٹی ڈائریکٹر نیب بینش نعمان نے کہا کہ نیب کا ادارہ 1999میں معرض وجود میں آیاجس کے ریجنل بیوروز بھی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کا مشن کرپشن فری معاشر ے کا قیام ہے یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی ڈیپارٹمنٹ یا فرد ہمیں کرپشن کے متعلق شکائت درج کروا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کی کئی اقسام ہیں جس میں تحائف کی کرپشن،مڈل لیول کی کرپشن،گورنمنٹ لیول پر کرپشن، منا پلی آف پاور،بلیک مارکیٹنگ سمیت اسی قسم کی کرپشن نیب کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔انہوں نے نیب کے رولز اور ان کی شقوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ نیب کی شق نمبر 15میں درج ہے کہ کرپشن کرنے والا سیاستدان 10سال کیلئے نا اہل ہو جاتا ہے اور وہ الیکشن نہیں لڑ سکتا نہ ہی کوئی عوامی عہدہ اپنے پاس ر کھ سکتا ہے۔
انہوں نے بتایاکہ اسی طرح نیب میں مختلف سطح کی کرپشن کیلئے مختلف سزائیں شقوں کی صورت میں تجویز کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی غیر قانونی اقدام نہیں کرنا چاہیے اور کوئی برا کام ہو تو نیب کے ادارہ کو رپورٹ کریں جس کیلئے نیب کی ویب سائٹ www.nab.gov.pkاور یونیورسل نمبر UAN-111-622-622 ہے۔ سیمینار کے آخر پر واک کا اہتمام بھی کیا گیا جس میں اساتذہ،یونیورسٹی کے انتظامی حکام، سٹاف ممبران اور طلباو طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔