حیدرآباد۔25اگست (اے پی پی):ملکی اور بین الاقوامی زرعی ماہرین ، سائنسدانوں اور سفارت کاروں نے گلوبل وارمنگ ، موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی اوراس کے زراعت اور مویشیوں پر منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور مشترکہ تحقیق اور بائیو ٹیکنالوجی پر عملدرآمد کی سفارش کی ہے سندھ زرعی یونیورسٹی کے زیر میزبانی اور یو ایس قونصلیٹ کراچی اور سندھ آبادگار بورڈ نے مشترکہ طور پر موسمیاتی تبدیلی اور زرعی حیاتیاتی ٹیکنالوجی پر ایک بین الاقوامی سیمینار منعقد ہوا، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وائیس چانسلر ڈاکٹر فتح مری نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے دنیا کے زیادہ متاثر ممالک میں شامل ہے، اس سلسلے میں گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس 2020 کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان موسمی اثرات سے متاثرہ ممالک میں پانچویں نمبر پر قرار دیا گیا ہے، جبکہ پاکستان کا صوبہ سندھ شدید گرمی سے زیادہ متاثر ہے اور درجہ حرارت میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی اور بارش کی موسم میں تبدیلی حالات کو مزید خراب کر سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سائنس دان اور محققین فصلوں اور جانوروں کی نسل میں بہتری ، بیماریوں پر قابو پانے اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بائیو ٹیکنالوجی کے اوزار استعمال کرتے ہوئے موسمی تبدیلی کے اثرات سے نمٹ سکتے ہیں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا پیغام صوبائی وزیر برائے ماحولیات ، موسمیاتی تبدیلی اور ساحلی ترقی اور یونیورسٹییز اینڈ بورڈز محمد اسمائیل راہو نے پڑھا، اپنے پیغام میں سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ گرین ہاؤسز گیس کے اخراج میں کمی ، کاربن ضبطگی ، ایندھن کا کم استعمال اور توانائی کی موثر کاشتکاری کے ذریعے ماحولیاتی تبدیلی کے موافقت اور تخفیف میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو فصلوں کی پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے اور بایو ٹکنالوجی کے مختلف وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ماحولیاتی نظام کی حفاظت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہےامریکی مشیر جنرل مسٹرمارک اسٹروہ نے کہا کہ ہماری زرعی صنعتیں، تکنیکی معلومات کے تبادلے، اسے سیکھنے اور بہترین طریقوں سے عمل کرنے سے ترقی کر سکتی ہیں ، اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ پاکستان اور امریکہ دونوں ممالک میں بدلتی ہوئی آب و ہوا سے نمٹنے کیلئے ، زراعت کو جدید بنیادوں پر فروغ دینا ہوگا، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہمارے فارم زیادہ پائیداری کے ساتھ کام کریں اور خشک سالی ، سیلاب اور خرابی جیسی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے بہتر طریقے سے آراستہ ہوں۔ صوبائی سیکرٹری زراعت سندھ عبدالرحیم سومرو نے پانی کی کمی سے پیدا ہونے والے مسائل کو اجاگر کیا، اور کہا کہ بار بار خشک سالی ، انڈس ڈیلٹا کا تباھ ہونا ، سرسبز زمینوں کو سمندر کا نگلنا اور زمینی پانی کا معیار خراب ہونا ، کیڑے مار ادویات کے زیادہ استعمال کے نقصانات نے سندھ کی زراعت کی معیشت کو بگاڑ دیا ہے۔ سندھ آبادگار بورڈ کے سینئر نائب صدر سید محمود نواز شاہ نے کہا کہ گندم ، چاول اور مکئی اہم غذائی فصلیں ہیں ، اور گنے پاکستان کی اہم نقد فصل ہے، بائیو ٹیکنالوجی سے پاکستان میں غذائی تحفظ کے مسائل کو کم کرنے کے لیے مختلف فصلوں بالخصوص کپاس ، گندم اور مکئی کی پیداوار کو بہتر بنایا جا سکتا ہے، آئی بے اے کراچی کے ایکنامکس کے پروفیسر ڈاکٹر ھیمن داس لوہانو نے موسمیاتی تبدیلی ، زراعت اور بائیو ٹیکنالوجی پر اپنا تفصیلی مقالہ پیش کیا اور کہا کہ موسمیاتی تبدیلی تمام اقتصادی شعبوں بالخصوص زرعی شعبے کے لیے عالمی ماحولیاتی خطرہ ہے پاکستان کو موسم کی شدید صورتحال کا سامنا کیا ہے، جس سے فصلوں اور کسانوں کی املاک کو بھاری نقصان پہنچا ہے ۔ انہوں نے کہا آب و ہوا کی تبدیلی اور فوڈ سکیورٹی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے فصلوں کی نشوونما کو تیز کرنے کے لیے زرعی بائیوٹیکنالوجی کے ذریعے تحقیق اور ترقی کی ضرورت ہے۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے اتاشی مسٹر کرس رٹگرز نے کہا کہ یو ایس ڈی اے فنی اور مصنوعات کے تبادلہ میں معاونت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ بائیو ٹیکنالوجی آمدنی بڑھانے اور فیلڈ لیول پر فارم کی پیداوار بڑھانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر سارہ ڈیوڈسن ایوینگا ، بوائس تھامسن انسٹی ٹیوٹ آف پلانٹ ریسرچ، پروفیسر ڈاکٹر نکولس کالیٹزینڈونیکس ، ڈائریکٹر آف اکنامکس اینڈ مینجمنٹ آف ایگرو بائیوٹیکنالوجی سینٹر (ای ایم سی) یونیورسٹی آف مسوری، آبادگار رہنما سید ندیم شاہ جاموٹ سینئر نائب صدر سندھ آبادگار بورڈ ، سید میرا محمد شاہ چیئرمین سندھ چیمبر آف ایگریکلچر جناب ذوالفقار یوسفانی نے بھی خطاب کیا جبکہ مسز آڈری اسٹیونز اکنامک یونٹ چیف ، امریکی قونصلیٹ کراچی نے سیمینار کے شرکاء کو خوش آمدید کہا ، سیمینار میں ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ریسرچ نور محمد سومرو، ڈائرکٹر جنرل ایکریکلچر ایکسٹینشن ھدایت اللہ چھجڑو، مختلف زرعی، لائیو اسٹاک اداروں کے اساتذہ بھی شریک ہوئے۔