حیدرآباد۔30اگست (اے پی پی):سندھ زرعی یونیورسٹی کی جانب سے آموںں کی بیماریوں سے پاک اقسام پر تحقیق شروع کی گئی ہے، پہلے مرحلے میں ایک ہزار پودے تیار کئے جائیں گےجبکہ ہر سال 20 ہزار پودے تیار کئے جائیں گے۔ جامعہ کے ترجمان کے مطابق یونیورسٹی کی کراپ پراڈکشن فیکلٹی میں اساتذہ اور ماہرین کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وائس چانسلر ڈاکٹر فتح مری بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کو آگاہی دی گئی کے سندھ زرعی یونیورسٹی کی جانب سے آموں کی بیماریوں سے پاک نرسری قائم کرتے ہوئے آموں کی مختلف اقسام کے بیماریوں سے پاک پودے تیار کرنے کا کام شروع کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں جامعہ کی کراپ پراڈکشن فیکلٹی میں تحقیقی سرگرمیاں شروع کردی گئی ہیں۔ اس نرسری میں سندھ سمیت ملک میں زیادہ تر کاشت ہونے والے آموں کے اقسام کی نرسری تیار کی جائے گی، جس سے آموں کے باغبان بلا خوف آموں کے بیماریوں سے پاک اقسام کے باغ لگا سکیں گے۔ سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح مری کی جانب سے خواجہ اسٹاپ سمیت حیدرآباد کی سبزی منڈیوں سے بچ جانے والے یا ضایع ہونے والی سبزیوں کو تلف کرنے یا پھینکنے کی بجائے پراسیس کرتے ہوئے ان میں سے نامیاتی کھاد تیار کرنے کے ساتھ توانائی تیار کرنے اور کراچی اور حیدرآباد سمیت دیگر علاقوں میں گوبر سے بائیو گیس اور نامیاتی کھاد تیار کرنے کے لئے تحقیقی کرنے کی تجویز دی ہے۔ انہوں نے کہا کے سندھ زرعی یونیورسٹی کے طلبہ کو تحقیقی اور تدریسی کاموں کے ساتھ صحتمند سرگرمیوں میں مصروف رکھنے کے لئے ہیک گرین یون موومنٹ بنائی جارہی ہے، اس مقصد کے لئے کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ اس موقع پر ڈین کراپ پروڈکشن ڈاکٹر قمر الدین چاچڑ، اینیمل ہسبنڈری اینڈ وٹنری سائنسز فیکلٹی کے ڈین ڈاکٹر سید غیاث الدین شاہ راشدی، ڈین انجنیئرنگ فیکلٹی ڈاکٹر نعمت اللہ لغاری، ڈین کراپ پروٹیکشن ڈاکٹر جان محمد مری، شعبہ سوائل سائنسز کے چیئرمین ڈاکٹر عنایت اللہ لغاری، ڈاکٹر سید ضیا عباس شاہ، ڈاکٹر محمد اسماعیل کنبھر ، ڈاکٹر قمر الدین جوگی، ڈاکٹر اعجاز سومرو، ڈاکٹر محمودہ بہران برڑو و دیگر موجود تھے۔