لاہور05اگست (اے پی پی ): صوبائی وزیر صنعت وتجارت میاں اسلم اقبال کی زیر صدارت پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے بورڈ ممبران کا 116واں اجلاس ہوا ۔پیسک کے کمیٹی روم میں ہونے والے اجلاس کے دوران پیسک کے سالانہ بجٹ برائے سال 2021-22 کی منظوری دی گئی۔
مالی سال 2021-22کے منظورکردہ بجٹ 5658 ملین روپے میں 3822ملین روپے ترقیاتی جبکہ 1810ملین روپے غیر ترقیاتری بجٹ شامل ہے۔
بورڈ نے پیسک پنشن سکیم میں اصلاحات کی اصولی منظوری بھی دی۔ بجٹ میں پنشن میں ا علان کردہ 10فیصد اضافہ پیسک کے ریٹائرڈ ملازمین کو بھی ملے گا۔ حکومتی پالیسی اور محکمہ خزانہ کے رولزکے مطابق پیسک ملازمین کو 25فیصد ڈسپیرٹی الاؤنس بھی ملے گا۔ بورڈ نے پیسک ہاؤس، سمال انڈسٹریل اسٹیٹ iv گوجرانوالہ، سمال انڈسٹریل اسٹیٹ وزیر آبادکے ریوائز پی سی 1 کی منظوری دی۔ اخوت تنظیم کی شرکت سے جاری وزیراعلیٰ خود روزگار سکیم بارے تجاویز مرتب کر کے کابینہ میں پیش کی جائیں گی۔ اجلاس میں سمال انڈسٹریل اسٹیٹ ساہیوال میں صنعتی یونٹس لگانے کیلئے حاصل کیے گئے پلاٹوں پر رہائشگاہیں بنانے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا اور سمال انڈسٹریل اسٹیٹ فیصل آباد میں توسیع کی منظوری دی گئی ۔ بورڈ نے سمال انڈسٹریل اسٹیٹ ڈی جی خان اور سمال انڈسٹریل اسٹیٹ جھنگ پر کام کے آغاز کی بھی منظوری دی۔
بورڈ نے پیسک کے دیگر مالیاتی اور انتظامی امور کی بھی منظوری دی۔ اجلاس سے گفتگو کرتے ہوئےوزیر صنعت وتجارت میاں اسلم اقبال نے کہا کہ صوبے بھر میں نئے صنعتی مراکز قائم کرکے معاشی اور تجارتی سرگرمیوں کی راہ ہموار کی گئی ہے۔صنعتی مراکز کی 100فیصد کالونائزیشن ہر قیمت پر یقینی بنائی جائے گی۔ صوبائی وزیرنے پیسک کی جاری سکیموں پر کام کی رفتار تیز کرنے اور نئی سکیموں کے پی سی 1جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی ۔
اور کہا کہ صوبے کی تمام سمال انڈسٹریل اسٹیٹس میں انفراسٹکچر کے معاملات کو درست کیا جائے۔ پیسک کی بیکار پڑی اراضی کے استعمال اور یہاں تجارتی سرگرمیاں شروع کرنے کا پلان بنایا جائےپنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن میں اصلاحات کا جامع پلان بنا کر پیش کیا جائے۔ایڈیشنل سیکرٹری صنعت وتجارت، ایم ڈی پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن اوربورڈ ممبران نے اجلاس میں شرکت کی ۔