اسلام آباد۔2اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ سید فخر امام نے کہا ہے کہ رواں سال پاکستان میں فصلوں کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ہے، قومی زرعی ایمرجنسی پروگرام پر عملدرآمد آخری مراحل میں ہے، کپاس اور چاول کی پیداوار بڑھانے کے لئے کھادوں پر 19 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی دی گئی ہے۔ پیر کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران شمس النساء کے سوال کے جواب میں وفاقی وزیر سید فخر امام نے کہا کہ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 1400 سے بڑھا کر 1800 روپے فی من کردی ہے۔ رواں سال فصلوں کی بمپر پیداوار ہوئی۔ گندم کی 27.5 ملین ٹن ، مکئی 8.4 ملین ٹن اور چاول 8.4 ملین ٹن ریکارڈ پیداوار ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ قومی زرعی ایمرجنسی پروگرام عملدرآمد کے مراحل میں ہے۔ کپاس اور چاول کی پیداوار بڑھانے کے لئے صوبوں میں شراکتی بنیاد پر کھادوں پر خریف 2021ء کے لئے 19.158 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے۔ پنجاب حکومت نے گزشتہ سال سبسڈی ریٹ پر گندم فراہم کی۔ اس بار پیداوار زیادہ ہوئی ہے اس لئے اس طرح کی سبسڈی نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہوگی کہ گندم کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو۔ جب ہم نے گندم امپورٹ کی تو اس وقت عالمی ریٹ زیادہ تھا۔ گزشتہ سال 3.6 ملین ٹن گندم امپورٹ کی گئی جس کی وجہ سے ملک میں گندم کی قلت پیدا نہیں ہوئی۔ سید فخر امام نے کہا کہ مالی سال 2021ء میں زرعی قرض کی فراہمی 1080.0 ارب روپے سے بڑھا کر 1191.6 ارب روپے کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لئے مختلف پالیسی ، انتظامی و امدادی اقدامات کئے گئے ہیں۔ حکومتی کاوشوں کی وجہ سے معیشت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت اور ذریعہ معاش پر وباء کے سخت اثرات کو کم کرنے کے لئے حکومت نے 1.24 ٹریلین روپے کا سب سے بڑا مالی، تعمیری پیکج اور سمارٹ لاک ڈائون متعارف کروائے تاکہ کورونا کے پھیلائو کو روکا جاسکے۔ بروقت اور مناسب اقدامات کے ساتھ معیشت کی ریکوری ہوئی، حکومت نے میکرو اکنامک عدم توازن کو درست سمت میں لانے اور پائیدار نمو کے حصول کے لئے پہلے سے ہی کوششیں جاری رکھ ہوئی ہیں، اس مقصد کے لئے معیشت کے تمام شعبوں میں معاشی اصلاحات کا ایک جامع پروگرام متعارف کروایا گیا ہے۔











