اسلام آباد۔5اگست (اے پی پی):ملک میں امن و امان کی صورتحال اور نیشنل ایکشن پلان 2014 پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لینے کی غرض سے وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدرت اعلیٰ سطحی اجلاس جمعرات کو منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین، وزیر قانون ڈاکٹر فروغ نسیم، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، ڈی جی ایم او میجر جنرل نعمان زکریا، ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار اور سینئر سول اور ملٹری افسران نے شرکت کی۔ ملک میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے بالخصوص پنجاب اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں سروے آف پاکستان 2021ء کو بروئے کار لاتے ہوئے سرحدی مسائل کو حل کرنے کے لئے بین الصوبائی سرحدی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ علاقے میں سیکورٹی کی صورتحال مزید بہتر بنانے کیلئے علاقے کی سول اور پولیس انتظامیہ کو بھی مزید مضبوط بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس نے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے کم ترقی یافتہ علاقوں خصوصاً انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ، پانی کی فراہمی، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں صوبے کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے لئے 5 سالہ جامع سماجی و اقتصادی ترقیاتی منصوبے کی بھی اصولی منظوری دی۔ نیشنل ایکشن پلان 2014ء پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اجلاس نے اب تک کی کامیابیوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور پلان کو مزید موثر بنانے اور موجودہ دور کی ضروریات کو پورا کرنے بالخصوص جاسوسی، تخریب کاری اور سائبر سیکورٹی کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اپ ڈیٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وزیراعظم نے اندرونی اور بیرونی دونوں چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مسلح افواج، پولیس، انٹیلی جنس ایجنسیوں، سول آرمڈ فورسز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششوں اور قربانیوں کو سراہا۔