بڑے شہروں کی 40 فیصد آبادی کی ویکسینیشن کا ہدف پورا ہونے پر بندشوں سے نکلنا ممکن ہے؛ اسد عمر کی نیوز کانفرنس

10

اسلام آباد،14ستمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی اصلاحات وخصوصی اقدا مات ونیشنل کمانڈ آپریشن سنٹر کے سربراہ اسد عمر نے منگل کو این سی او سی میں نیوز کانفرنس   سے خطا ب میں کہا ہے کہ ملک میں حالیہ کورونا کی چوتھی لہر میں بتدریج کمی دیکھی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ویکسی نیشن کے عمل میں تیزی لائی جائے گی اور ملک کے بڑے شہروں میں 15 سال سے زائد عمر کے 40 فیصد شہریوں کو ویکسی نیشن کا عمل مکمل کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ حکومت 200 ارب روپے کی ویکسین کی خریداری کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔ملک میں کورونا  پابندیاں 30 ستمبر تک قائم رہیں گی۔

انہوں نے  کہا کہ 30 ستمبر کے بعد جو افراد ویکسین کی دونوں خوراکیں نہیں لگوائیں گے ان پر پابندیاں مزید سخت کی جائیں گی۔جن میں سکولوں میں کام کرنے والے افراد چاہے وہ کسی بھی شعبہ سے ہوں۔اسی طرح سے جن افراد نے ویکسین کی دونوں خوراکیں نہیں لگوائی وہ ہوائی سفر نہیں کر سکیں گے۔شاپنگ مالز میں کام کرنے والے افراد یا شاپنگ کرنے والے افراد بھی 30 ستمبر کے بعد ویکسین کی دونوں خوراکیں نہ لگانے والے افراد پر بھی پابندیاں لگائی جائیں گی اسی طرح ڈے ہوٹلز اور گیسٹ ہائوسز میں بکنگ کیلئے ویکسین کی دونوں خوراکیں ضروری ہوں گی بصورت دیگر 30 ستمبر  کے بعد پابندیوں کا اطلاق کیا جائے گا۔اسی طرح سے ان ڈور اور آئوٹ ڈور ڈائننگز پر بھی ویکسین کی دونوں خوراکیں نہ لگوانے پر پابندیوں کا اطلاق ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں 15 سال سے زائد عمر کے 52 فیصد افراد کو ویکسین لگ چکی ہے۔انہوں نے تمام صوبائی حکومتوں اور عملے سے درخواست کی کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ویکسین لگائیں تاکہ اس موذی وائرس سے نجات حاصل ہو اور کم سے کم پابندیاں لگائی جائیں۔