اسلام آباد، 11 ستمبر (اے پی پی ):وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے حکومت آزادی اظہار کے بنیادی، جمہوری اور آئینی حق پر کامل یقین رکھتی ہے۔ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مسودہ پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنر سے ملاقات میں کیا ، ملاقات میں وفاقی وزیر اطلاعات نے برطانوی ہائی کمشنر کو مجوزہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا مقصد میڈیا کی ترقی اور موثر انتظام کے لئے مربوط نقطہ نظر کو یقینی بنانا اور میڈیا پریکٹیشنرز اور کنزیومرز کو ون ونڈو آپریشن فراہم کرنا ہے۔
چوہدری فواد حسین نے کہا کہ حکومت فلم انڈسٹری کے فروغ کے لئے این او سی کے اجراء کے عمل کو آسان بنانا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کی جمہوری اقدار کا تحفظ، فروغ اور تنقید کا حق کسی بھی مہذب جمہوری معاشرے کے لئے ناگزیر ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت سات ریگولیٹری باڈیز میڈیا کے اداروں کو چلا رہی ہیں ،جن میں پیمرا، پریس کونسل آف پاکستان، پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی، سینٹرل بورڈ آف فلمز سینسرز، پریس رجسٹرار آفس،آڈٹ بیورو آف سرکولیشن اور امپلی منٹیشن ٹربیونل فار نیوز پیپرز ایمپلائیز شامل ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کسی ریگولیٹری فریم ورک کے تحت نہیں ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ریگولیشن کے موجودہ طریقہ کار کے تحت تقریباً نصف درجن فرسودہ قوانین موجود ہیں جو میڈیا کے جدید دور کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے، مجوزہ فریم ورک عالمی طریقوں کے مطابق چیلنجز کو دور کرے گا تاکہ پاکستان کو ملٹی میڈیا انفارمیشن اینڈ کانٹینٹ سروسز کے لئے ایک بڑا عالمی مرکز بنایا جا سکے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہم میڈیا کیلئے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ایک واحد قانون لانا چاہتے ہیں جس میں میڈیا پلیٹ فارمز اور شہریوں کیلئے سہولیات پر توجہ مرکوز ہو۔مجوزہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ترقی، جدت، ڈیجیٹل معیشت، تربیت اور تحقیق پر توجہ کی جائے گی۔
چوہدری فواد حسین نے کہا کہ پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں پریس ڈائریکٹوریٹ، ڈیجیٹل میڈیا اینڈ فلم ڈائریکٹوریٹ، الیکٹرانک میڈیا ڈائریکٹوریٹ، میڈیا کمپلینٹس کمیشن اور میڈیا ٹربیونل ہوں گے۔ایک جمہوری اور تکثیری معاشرہ ہونے کے باعث پاکستان میں میڈیا کا ایک متحرک منظر نامہ ہے۔پاکستان میں 114 سیٹلائٹ ٹیلی وژن چینلز کام کر رہے ہیں جن میں سے 31 نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز کے چینلز ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایف ایم چینلز کی مجموعی تعداد 258 ہے جن میں سے 196 کمرشل اور 62 نان کمرشل ہیں، وزیر مملکت برائے اطلاعات کی صدارت میں قائم کمیٹی نجی شعبہ کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ اس کمیٹی نے اے پی این ایس، سی پی این ای، پی بی اے اور پی ایف یو جے کے عہدیداران اور پریس کلبوں کے ساتھ اجلاس منعقد کئے۔انہوں نے مزید کہا کہ ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ چند سالوں میں 25 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے۔
برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ پی ایم ڈی اے کے مسودہ کو حتمی شکل دینے سے پہلے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے۔تمام اسٹیک ہولڈرز کو یقین دلایا جائے کہ یہ اتھارٹی صحافیوں کی سہولت کے لئے ہے جبکہ اس سے تنقید کا حق متاثر نہیں ہوگا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے امید ظاہر کی کہ برطانوی حکومت پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھنے کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے گی کیونکہ حکومت نے پاکستان میں کووڈ 19 کے اعداد و شمار کے حوالے سے برطانیہ کے کئی تحفظات دور کر دیئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔