صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا پنجاب میں خواتین پر تشدد کے بڑھتے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار

26

لاہور، 8 ستمبر(اے پی پی):صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے پنجاب میں خواتین پر تشدد کے بڑھتے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کابینہ کمیٹی برائے لا اینڈ آرڈر کے 82 ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سے لے کر نچلی سطح تک خواتین کے خلاف بڑھتے جرائم پر گہری تشویش موجود ہے اور ہم خواتین کے خلاف جرائم میں گرفتاریوں اور تفتیش کی کارکردگی سے مطمئن نہیں، صوبہ بھر سے موصول رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں خواتین کے خلاف جرائم میں واضح اضافہ ہوا ہے ۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت  نے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے سیمیناروں کی بجائے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین کے خلاف واقعات کی ایف آئی آر کے اندراج میں انکار یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور آئی جی پولیس اور سیکریٹری پراسیکیوشن آئندہ اجلاس میں گرفتاریوں، چالان اور تفتیش کی مکمل تفصیل پیش کریں، صدر سرکل راولپنڈی میں سنگین جرائم کی شرح میں خطرناک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  پولیس خواتین کے لیے  قائم کردہ ضلعی اینٹی کرائم سیلز صحیح معنوں میں فعال کرے علاوہ ازیں پولیس خواتین کے مقدمات میں ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کو اپنے اقدامات سے لازمی آگاہ کیا کرے۔

 راجہ بشارت نے قصور میں بچوں سے زیادتی کے دوبارہ بڑھتے واقعات میں ملوث ملزمان کا سخت محاسبہ کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ چہلم کے جلوسوں اور کرکٹ میچوں کے حوالے سے سیکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے جائیں۔

اجلاس میں کمیٹی نے صوبہ بھر میں پرائس مجسٹریٹس کی تعیناتی کی  منظوری بھی دی گئی۔ اجلاس میں چیئرپرسن ویمن اتھارٹی فاطمہ چدھڑ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ، ایڈیشنل آئی جی پنجاب، اے آئی جیز سی ٹی ڈی و سپیشل برانچ ،سی سی پی او اور دیگر افسران   نے بھی شرکت کی ۔

 اس کے ساتھ ساتھ ڈویژنل کمشنرز اور آر پی اوز کی بھی ویڈیو لنک کے ذریعے بریفنگ اجلاس کا اہم حصہ تھی۔