کوئٹہ،02ستمبر (اے پی پی): پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ محکمہ صحت بلوچستان میں اصلاحات کے ذریعے بہتر طبی سروسز کی فراہمی کے لئے اقدامات جاری ہیں، علاقائی مراکز صحت و دیہی اسپتالوں میں بہتر طبی سہولیات فراہم کرکے ٹرشری کئیر ہاسپیٹلز پر غیر معمولی دباؤ کم کیا جاسکتا ہے اس طرح ان بڑے اسپتالوں میں اسپیشلائزیشن سروسز کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے محکمہ صحت میں جاری منصوبوں، سرکاری اسپتالوں میں طبی خدمات کی بہتر فراہمی، ہیلتھ انشورنس ہیلتھ کارڈ، کینسر اسپتال، نواں کلی اسپتال، ہیلتھ سیکٹر کی وفاقی و صوبائی پی ایس ڈی پی، محکمانہ جاتی انتظامی امور کے تعین، ورٹیکل پروگرامز سمیت مجموعی محکمہ جاتی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان کے ویژن کے مطابق بلوچستان میں صحت کی معیاری اور قابل اعتماد سہولیات کی فراہمی کے لئے اقدامات کو موثر بنانا ہوگا، یونیورسل ہیلتھ کوریج اور ہیلتھ انشورنس کارڈ صوبائی حکومت کے ایسے دیرپا فلاحی منصوبے ہیں جن کا فائدہ براہ راست غریب اور عام آدمی کو ہوگا، اس لئے ضروری ہے کہ منصوبے پر عمل درآمد میں درپیش رکاوٹوں کو دور کرکے مزید بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے اس پر عمل درآمد شروع کردیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کینسر اسپتال کی تعمیر صوبے کی طبی تاریخ کا ایک غیر معمولی منصوبہ ہے جس کی تکیمل سے کینسر جیسے موزی مرض کا مہنگا علاج مقامی سطح پر ہی سرکاری اخراجات سے ممکن ہوگا۔
ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے محکمہ مواصلات و تعمیرات کو ہدایت کی کہ سول سنڈیمن اسپتال کوئٹہ کے شعبہ حادثات کی زیر تعمیر بلڈنگ کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ صوبائی دارلحکومت کے اس مرکزی اسپتال میں عوام کو ہنگامی طبی سروسز کے ضمن میں درپیش مسائل اور مشکلات کا ازالہ ممکن ہوسکے۔
اجلاس کو محکمہ اسپیشل ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بلوچستان میں ہیلتھ کارڈ کے اجراءکے لئے انشورنس کمپنیوں کے ساتھ بڈنگ ڈاکومنٹس کی تشکیل کی کارروائی اور دیگر تمام ضروری معاملات کو حتمی شکل دے کر یہ منصوبہ جلد شروع کردیا جائیگا، منصوبے پر عمل درآمد کے لئے دیگر صوبوں کے ہیلتھ انشورنس پروگرامز کا بھی جائزہ لیا جاررہا ہے تاکہ اس کو عوام کے لئے زیادہ سے زیادہ سودمند بنایا جاسکے۔
اجلاس میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کی جانب سے ہیلتھ سیکٹر میں جاری تعمیراتی منصوبوں پر بریفننگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ حکومت بلوچستان کے وسائل سے کوئٹہ میں شیخ زید اسپتال کینسر اسپتال کی تعمیر پر تیزی سے پیش رفت جاری ہے اس منصوبے کے لئے مجموعی طور پر 658۔1557 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔امید ہے کہ یہ منصوبہ رواں سال دسمبر تک مکمل کرلیا جائیگا، اس کے علاوہ 30 بیڈز کا ایک اسپتال نواں کلی میں تعمیر کیا جاررہا ہے اس منصوبے کی لاگت 410 ملین روپے ہے، فاطمہ جناح چیسٹ میں نئے سرجیکل وارڈ و ضمنی مرمت کے منصوبوں کے لئے668۔526 ملین روپے کا منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے جبکہ بولان میڈیکل کالج کے پیتھالوجی او پی ٹی کے منصوبے کے لئے 80 ملین روپے کا منصوبہ مکمل کرلیا گیا ہے۔
سیکرٹری پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ عزیز احمد جمالی نے اجلاس کو بتایا کہ رواں مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں مجموعی طور پر 154 اسکیموں پر کام جاری ہے جس میں 76 نئی اور 78 پرانی اسکیمیں شامل ہیں محکمہ صحت کی انتظامی تقسیم کے معاملات کو بتدریج نمٹایا جارہا ہے۔ اجلاس میں محکمہ صحت بلوچستان کے مختلف ورٹیکلز پروگرامز کے صوبائی سربراہان نے کارکرگی رپورٹ پیش کی۔
پارلیمانی سیکرٹری صحت نے محکمہ اسپیشل ہیلتھ کئیر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کو ہدایت کی کہ ٹرشری کئیر ہاسپیٹلز کی کارکردگی کو جانچنے کے لئے ایک سیٹ فارمیٹ مرتب کیا جائے اور تمام میڈیکل سپریٹنڈنٹس کا اجلاس طلب کرکے کارکردگی کی بہتری کے لئے انہیں اہداف دئیے جائیں اور مستقل بنیادوں پر اس کا جائزہ لیا جائے۔
پارلیمانی سیکرٹری صحت ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے تمام شرکاءاجلاس کی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہیلتھ سیکٹر میں نمایاں بہتری کے لئے اقدامات کو موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور مشاورتی نشست کے تسلسل کے ساتھ انعقاد کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس میں وزیر اعلی بلوچستان کے پرنسیپل سیکرٹری اسفند یار خان، سیکرٹری پرائمری و سیکنڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ عزیز احمد جمالی، سیکرٹری مواصلات و تعمیرات غلام علی بلوچ، ایڈیشنل سیکرٹری اسپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر و میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نعیم احمد بازئی، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر علی ناصر بگٹی، اور ورٹیکل پروگرامز کے صوبائی سربراہان نے شرکت کی۔