اسلام آباد۔16ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن کا خواہشمند مند ہے،دنیا کو افغانستان میں زمینی حقائق سمجھنے کی ضرورت ہے،طالبان کو حکومت سازی اور ملکی امور چلانے میں وقت دینا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فیلپو گرانڈی سے گفتگو کرتےہوئےکیاجنہوں نے جمعرات کو یہاں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات میں افغانستان سے انخلاء اورافغان شہریوں کے لئے انسانی امداد سے متعلق بات چیت کی گئی ۔ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ افغان شہریوں کو موجود حالات میں تنہا نہیں چھوڑا جائیگا اور انسانی بنیادوں پر افغان شہریوں کے لئے خوراک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کا بندوبست کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ پاکستان ہمسایہ ملک افغانستان میں پائیدار امن کا خواہشمند مند ہے۔ طالبان کو حکومت سازی اور ملکی امور چلانے میں وقت دینا چاہئے۔ دنیا کو افغانستان میں زمینی حقائق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کو افغانستان میں گورننس کے لئے مالی اور انسانی وسائل یقینی بنانا ہوں گے۔ طالبان کے زیر حکومت افغانستان کی ایک ہی دن میں یورپ کی طرح ترقی ممکن نہیں ۔افغانستان میں ممکنہ انسانی قحط بدامنی ،اور لاقانونیت کو جنم دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کے تحت خوراک اور ادویات کے ٹرک اور جہاز افغانستان بھیجے ہیں ۔ موجودہ حالات میں پاکستان افغان شہریوں کی انسانی ہمدری کی بنیاد پر امداد جاری رکھے گا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ حالیہ تناظر میں پاکستان میں نہ کوئی افغان مہاجر ہے نہ ہی مہاجر کیمپ۔ افغانستان سے غیر ملکی اور افغان شہریوں کو نکالنے کے لئے سہولت مرکز 24 گھنٹے کام کررہا ہے۔ ملاقات میں ہائی کمشنر برائے مہاجرین فیلپو گرانڈی نے کہاکہ پاکستان کا 30 لاکھ افغان مہاجرین کی مسلسل دیکھ بھال میں کردار قابل رشک ہے۔ اقوام متحدہ افغان شہریوں کو تنہا نہیں چھوڑے گا،ان کی ہر ممکن مدد کریں گے۔ اقوام متحدہ نے افغانستان کے لئے فنڈز اورامداد کےلئے اقوام عالم کو متحرک کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کے عملے کی سکیورٹی اور ویزہ سہولیات فراہم کرنے پر حکومت پاکستان کے مشکور ہیں ۔ وزیر داخلہ نے پاکستان میں افغان مہاجرین کی امداد پر ہائی کمشنر برائے اقوام متحدہ کا شکریہ اداکیا۔