پشاور، 16ستمبر(اے پی پی): صوبائی دارالحکومت میں بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کے باقاعدہ آغاز کے بعد پرانی بسوں اور ویگنوں کا خاتمہ ان کے مالکان کو معاوضے کے ساتھ شروع ہوا۔ اب تک 220 سے زائد گاڑیاں مکمل طور پر ختم کردی گئی ہیں۔ ٹرانس پیشاور کے ساتھ رجسٹرڈ گاڑیوں کی کل تعداد 418 ہے۔ ان پرانی گاڑیوں کو ختم کرنے کا اثر ماحول کی بہتری کیطرف غیر معمولی اقدام ہے۔ ختم شدہ گاڑیوں کے مالکان کو معاہدے اور قواعد و ضوابط کے مطابق ادائیگی کی گئی ہے اور گاڑی مالکان کو ادائیگی میں کوئی تاخیر نہیں کرر ہے ہیں۔ سکریپنگ اور معاوضہ کا عمل مرحلہ وار جاری ہے۔ فی الحال پروجیکٹ مرحلہ وار جاری ہے۔ تمام سرکاری ایجنسیوں اور اتھارٹیز کی جانب سے سکریپ کی گئی گاڑیوں کی جانچ پڑتال اور تصدیق کی جاتی ہے۔ لوگوں کے لیے ان پرانی بسوں اور ویگنوں میں سوار ہونا محض ناممکن تھا ۔ جبکہ دوسری طرف بی آر ٹی کی سواریوں میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے اور عوام کی طرف سے زبردست رسپانس مل رہا ہے۔ ترجمان ٹرانس پشاور ایم عمیر خان نے کہا کہ محکمہ انتھک محنت کر رہا ہے اور اپنے مسافروں کو بہترین پبلک ٹرانسپورٹ مہیا کر رہا ہے جبکہ مسافر بھی نظام کے مالک ہونے اور بیان کردہ قواعد و ضوابط پر عمل کرنے کی ذمہ داری اٹھاتے ہیں۔ عوام کو کوڈ 19 کے پھیلاؤ کو غیر سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے بلکہ کوویڈ 19 کے ایس او پیز کی صحیح طریقے سے تعمیل کرنی چاہیے۔