حکومت نے ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے 6 ملین ٹن گندم خریدی، گندم کے 5.3 ملین ٹن کے ذخائر موجود ہیں؛وفاقی وزرا سیّد فخر امام اور خسرو بختیار  کا پریس کانفرنس سے خطاب

6

اسلام آباد،25نومبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق سیّد فخر امام اور وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار  نے کہا ہے کہ حکومت نے ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے 6 ملین ٹن گندم خریدی، آج ہمارے پاس 5.3 ملین ٹن کے ذخائر موجود ہیں جبکہ 13 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کے لیے بک کروا لی گئی ہے جس کے بعد ہمارے ذخائر 6.6 ملین ٹن ہو جائیں گے۔

  ان خیالات کا اظہار وفاقی وزرا سیّد فخر امام اور  خسرو بختیار نے جمعرات کو اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر سیّد فخر امام نے کہا کہ ہمارے پاس ملکی ضرورت پوری کرنے کے لیے گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں، مقامی ضرورت پوری کرنے کے لیے 1.9 ملین ٹن گندم درآمد کرنے کی منظوری دی گئی تھی جس میں سے 13لاکھ ٹن بک ہو چکی ہے ، جس سے ہمارے ذخائر 6.6ملین ٹن ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وفاق نے صوبوں کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے گندم کی فی من امدادی قیمت 1950روپے مقرر کی ، سندھ نے گندم کی فی من قیمت 2200روپے مقرر کرنے کا اعلان کیا  جس سے قیمتوں میں عدم توازن پیدا ہوا اور سندھ میں مہنگائی میں تیزی آئی اور آٹے کا تھیلا باقی صوبوں کے مقابلے میں مہنگا ہو گیا ۔ انہوں نے کہاکہ سندھ حکومت نے دو دفعہ ایسا رویہ اختیار کیا ہے جو کہ زیادتی ہے ۔ ان کی امدادی قیمت ہمیشہ 20-25 روپے زیادہ ہے جو عام آدمی کو ادا کرنی پڑتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ کے پی کے میں 1100 روپے میں ملنے والا آٹے کا تھیلا کراچی میں 1400روپے کا مل رہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں زرعی پیداواربڑھانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہوئی ہے جس کے باعث رواں سیزن کے دوران گندم کی پیداوار کا ہدف 28.9ملین ٹن مقرر کیا گیا ہے جو گزشتہ سیزن کے دوران 27.5ملین ٹن تھا ، حکومتی اقدامات کے باعث ریکارڈ پیداوار حاصل ہو رہی ہے اور ہر ہفتے قیمتوں کی نگرانی کا نظام قائم کیا گیا ہے تاکہ قیمتوں کو متوازن رکھا جائے۔

 اس موقع پر وفاقی وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار نے کہا کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی گورنمنٹ عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال رہی ہے ، سندھ حکومت کی طرف سے فلور ملز کو گندم کی ریلیز نہیں کی گئی جس سے آٹے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔پی ٹی آئی کی حکومت کو سندھ کے عوام کا درد ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ فرٹیلائزر پر کسی قسم کا ٹیکس لگانے سے انکار کیا ہے ، فرٹیلائزر کمپنیوںکو گیس کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ یوریا کی فی بوری قیمت 1768روپے ہے ذخیرہ اندوزوں نے مصنوعی قلت پیدا کر کے یوریا کی  قیمت کو 2400روپے تک بڑھایا ، حکومت نے یوریا کی قیمت کو کم کرنے کے لئے موثر حکمت عملی کے تحت کام کیا ، تاکہ یوریا کی ایک ہی قیمت مقرر کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ 31لاکھ میٹرک ٹن یوریا کی پیداوار حاصل ہوئی ہے ، جو گزشتہ سال سے ایک لاکھ میٹرک ٹن زائد ہے ۔

 وفاقی وزیر صنعت و پیداوار خسرو بختیار نے کہاکہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف چھاپے مارے جارہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ جب قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو شرح سود بڑھانا پڑتا ہے جس سے معیشت پر اثرات پڑتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کوشش کر رہی ہے کہ فرٹیلائزر کی پیداوار میں اضافہ ہو ، پوری سپلائی چین کو ٹھیک کر رہے ہیں تاکہ کنٹرول ریٹ پر فرٹیلائز کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ۔ کنٹرول ریٹ کی خلاف ورزی کرنے پر 159افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ۔حکومت نے ذخیرہ اندوزوں اور کاٹن بنانے والوں کے خلاف سخت اقدامات کئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ نئی فرٹیلائزر پالیسی لا رہے ہیں تاکہ ڈی اے پی کی پیداوار بڑھائی جاسکے ، تمام صنعتوں کی پیداوار بڑھانے پر توجہ مرکوز ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ڈی اے پی کی قیمتوں میں اضافہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے ہوا ہے کیونکہ ہمیں ڈی اے پی درآمد کرنی پڑتی ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ فرٹیلائزر پر حکومت نے صوبوں کے تعاون سے 15ارب روپے کی سبسڈی دی جس سے کاشتکاروں کو فائدہ ہو گا ۔