مدینہ کی طرز کی ریاست بنانے کے لیے ہم سب کو نظام مصطفی کو اپنانا ہو گا؛ علامہ طاہر اشرفی

3

راولپنڈی،25نومبر  (اے پی پی):وزیراعظم کے نمائندہ خصوصی برائے بین الامذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ اور چیئرمین پاکستان علماءکونسل علامہ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہاہے کہ ہمیں اپنے گھروں کے اندر نظام مصطفیٰ ﷺنافذ کرنا ہوگا ، اور اسلام کو اپنے نظریے سے نہیں ،اسلام کو اسلام کے نظریے سے سمجھنا ہوگا،محبت کا تقاضا ہوتا ہے کہ محبوب جو بات کہے اس کو مانا جائے ،میرے اور آ پ کے آقا ﷺ نے جھوٹ اور غیبت سے منع فرمایا  ، لیکن  لوگ  موبائل پر موصول ہونے والے مواد کو بغیر  تحقیق  آگے بھیج  دیتے ہیں،  میرے بارے میں ذرائع ابلاغ نے اس وقت جھٹی خبر چلائی جب میں حرم پاک  میں بیٹھا تھا۔نوجوان اس ملک کا مستقبل ہیں اور مستقبل نوجوانوں کا ہے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو بارانی زرعی یونیورسٹی راولپنڈی کی سلور جوبلی کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ مجھ سے طلبا کے ایک گروپ نے سوال کیاکہ ہم مولانا طارق جمیل کو مانیں یا خادم رضوی کو مانیں،  میں نے کہاکہ دونوں کا    پانچ نمازوں پہ  اتفاق ہے،  لہذا آج سے یہ شروع کردیں  ۔ دونوں نے کبھی نہیں کہا کہ جھوٹ بولیں  توآج سے سچ  بولنا شروع کردیں  ۔ توحید،ختم نبوت اور ناموس رسالت پر ہمارا ایمان ہے ،اصحاب رسول کی عظمت و صداقت پر ہمارا ایمان ہے اور لوگوں سے حسن سلوک ان سب پہ تمام مکاتب فکر متفق ہیں  تو آئیں پہلے اس طرف آگے بڑھیں  ۔ دوسرے مذاہب کی بات کریں تو ان سب کا بھی اس پر اتفاق ہے کہ جو اپنے ماں باپ کی خدمت کرے گا ،عزت و عظمت پائے گا ،  آئیں اس سے شروع کرلیتے ہیں ۔ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک  پر سب کا اتفاق ہے  توپھر آئیں اس سے شروع کرلیں ۔پاکستا ن کلمہ طیبہ کے نام پر قائم ہوا ،یہاں پر نہ کبھی ناموس رسالتﷺ کوکوئی خطرہ ہوسکتا ہے اور نہ عقیدہ ختم نبوت کوکوئی خطرہ ہوسکتا ہے ،یہ الجھنیں دور کرلیں ۔ عقیدہ ختم نبوت پر بغیر داڑھی  والوں نے  بھی سینے پر گولیاں کھائیں۔نبی پاک ﷺسے محبت کا سرٹیفکیٹ کوئی نہیں دے سکتا ، یہ  بس ہوتی ہے ،جب تک اس ملک کے لوگوں کا ایمان ان کا ضمیر زندہ ہے تو کوئی بھی عقیدہ توحید رسالت پر حملہ نہیں کرسکتا ۔