پیپلزپارٹی کے تین اراکین اسمبلی پر قتل کے الزامات ہیں، ناظم جوکھیوں کے قتل کے حوالے سے بنائی گئی جے آئی ٹی رد کرتے ہے ؛ حلیم عادل شیخ

16

کراچی،6نومبر  (اے پی پی):قائد حزب اختلاف سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کے تین اراکین اسمبلی پر قتل کے الزامات ہیں، میمن گوٹھ ملیر میں ناظم جوکھیو کو حق کی بات کرنے پر اغوا کر کے تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا ،پولیس نے ایف آئی آر میں اغوا اور دہشتگردی کی دفعات شامل نہیں کی ہیں،سندھ میں سردار گردی ،دہشتگردی اور پولیس گردی ایک ہی چیز کے نام ہیں۔

 ان خیالات کاا ظہار انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی راجا اظہر، پی ٹی آئی رہنما ڈاکٹر مسرور سیال، ایڈووکیٹ اجمل سولنگی بھی ان کے ہمراہ موجو د تھے ۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ کل ناظم جوکھیو کی بیٹی قبر پر سرداری نظام کے خلاف رو رہی تھی ،سندھ والو جاگو ان سرداروں کے خلاف کھڑے ہوجائو، یہاں آواز اٹھانے پر قتل کر دیا جاتا ہے، ناظم جوکھیو کی بیوی انصاف مانگ رہی ہے ،ناظم جوکھیو کا قصورصرف یہ ہے کہ اس نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔انہوں نے کہا کہ ناظم جوکھیوں خو دپیپلز پارٹی کا ورکر تھا ،چھ گھنٹے اس کی لاش مردہ خانے میں پڑی رہی ،پریشر آرہا تھا کہ اس کا دوسرا بھائی بھی مار دیں گے ، اگر کوئی کارروائی کروائی ۔

 انہوں نے کہا کہ میں سلام پیش کرتا ہوں ان کے ورثا کو جو انصاف کے حصول کے لئے سرداروں کے سامنے کھڑے ہوئے ہیں۔وزیر اعلی سندھ نے ناظم جوکھیو کے قتل کی تحقیقات پر جو جے آئی ٹی بنائی ہے جسے ہم رد کرتے ہیں، جس ضلع میں قتل ہوا اسی ضلع کے ایس ایس پی کی نگرانی میں جے آئی ٹی بنائی گئی ،واقع پر چیف جسٹس کو سوموٹو ایکشن لینے کی اپیل کرتے ہیں، تحقیقات کے لئے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کی سربراہی میں جے آئی ٹی بنائی جائے، جس میں قانون نافظ کرنے والے اداروں کو شامل کیا جائے۔ ناظم جوکھیو کا خون رائیگا نہیں جانے دیں گے، ورثا کے ساتھ ہیں ہر ممکن مدد کریں گے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا ملیر کے علاوہ قمبر شہدادکوٹ اور فیض گنج میں بھی قوم کی بیٹیوں کوماراگیا ہے۔