تمام غیر ضروری لگژری اشیاء کی درآمد پر پابندی کے باعث مقامی صنعتوں کو فائدہ ہو گا ؛ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب

1

  اسلام آباد،19مئی  (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی صورتحال ہے ،ہر فرد کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہے، موجودہ حکومت گزشتہ پی ٹی آئی حکومت کی دی گئی معاشی بربادی ٹھیک کر رہی ہے ، تمام غیر ضروری لگژری اشیاء کی درآمد پر پابندی کے باعث مقامی صنعتوں کو فائدہ ہو گا، لگژری اشیاء میں تزئین و آرائش، امپورٹڈ گاڑیاں، اشیاء خوردونوش اور برقی آلات شامل ہیں ۔

  اد، 19 مئی  (اے پی پی ):جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک میں اس وقت عوامی حکومت ہے جس میں وفاق کی تمام اکائیاں اور صوبوں کی نمائندگی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں میں ملکی معیشت کو تباہ کیا گیا، عوام کو لوٹا گیا، مہنگائی کی شرح بڑھائی گئی، گزشتہ چار سال کے دوران جتنا قرضہ لیا گیا وہ 1947ء سے  2018ء تک لئے جانے والے قرضے کا 80 فیصد ہے، چار سالوں میں قرضے کو  25 ہزار ارب سے بڑھا کر 43 ہزار ارب روپے کر دیا گیا، 2018ء میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں غذائی مہنگائی 2.3 فیصد تھی، آج مہنگائی پر وہ لوگ سوال کر رہے ہیں جنہوں نے غذائی مہنگائی کو 16 فیصد تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ 2018ء میں پاکستان ایمرجنگ مارکیٹس کے اندر شامل ہو چکا تھا، ترقی کی شرح 6 فیصد پر پہنچ چکی تھی، پچھلے چار سالوں میں اسے منفی کیا گیا۔

 وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ  پچھلے چار سالوں میں امپورٹڈ حکومت، امپورٹڈ کابینہ، امپورٹڈ مشیر اور امپورٹڈ ترجمانوں کی حکومت تھی، پچھلی حکومت کے دوران تجارتی خسارہ پاکستان کی بلند ترین سطح پر تھا، مسلم لیگ (ن) کے دور میں ترقی کی شرح 6 فیصد تھی، اُس وقت ملک میں سی پیک تھا، 11000 میگاواٹ بجلی کے منصوبے بن رہے تھے، ڈالر کی قیمت مستحکم تھی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام پیدا کر کے تین مرتبہ کے منتخب وزیراعظم کو اقامے پر جب نکالا گیا تو اس وقت ڈالر کی قیمت 105 روپے تھی، جب 2018ء میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت اقتدار چھوڑ کر گئی تو ڈالر کی قیمت 115 روپے تھی، آج سازشی کنٹینر پر کھڑے ہو کر اس حکومت سے سوال کر رہا ہے جسے اقتدار میں آئے ہوئے چار ہفتے ہوئے ہیں۔ انہیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے اور تھوڑی سی شرم کرنی چاہئے کہ ڈالر 189 پر ان کے دور حکومت میں گیا، غیر ملکی ذخائر کی بدحالی ان کے دور میں ہوئی۔

 وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے غیر ضروری لگژری آئٹمز پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ایسی تمام اشیاء جو عوام کے استعمال میں نہیں ہیں، ان کی درآمد پر مکمل پابندی لگائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تزئین و آرائش کی اشیاء سمیت تمام درآمدی گاڑیوں اور موبائل فونز پر پابندی عائد ہوگی۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی صورتحال ہے، ایسے وقت میں تمام پاکستانیوں کو قربانی دینا پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ لگژری آئٹمز پر پابندی کے نتیجے میں سالانہ چھ ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔

 وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہماری ترجیح درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے اور برآمدات پر مبنی اکنامک پالیسی متعارف کرانا ہے، لگژری آئٹمز پر پابندی کا اثر مقامی انڈسٹری، لوکل پروڈیوسرز، مقامی صنعت پر پڑے گا، ملک کے اندر مقامی صنعتوں کے فروغ سے لوگوں کو روزگار میسر آئے گا، پچھلے چار سالوں کے دوران 60 لاکھ لوگوں کو بے روزگار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لگژری آئٹمز پر پابندی کا براہ راست اثر کرنٹ اکائونٹ خسارے پر ہوگا۔ انہوں  نے کہا کہ بڑی گاڑیوں، موبائل فونز، ہوم ایپلائنسز، ڈرائی فروٹ، کراکری، پرائیویٹ ویپنز، شوز، ڈیکوریشن پیسز، فوڈ آئٹمز، سوسز، فروزن میٹ، فروٹ، سینیٹری ویئر، ڈور اینڈ ونڈوز فریمز، فش اینڈ فروزن آئٹمز، کارپٹ، فوڈ آئٹمز، ٹشو پیپرز، میک اپ کی اشیائ، شیمپو، جیم اینڈ جیلی، باتھ روم پروڈکٹس، ہیٹر، بلور، سن گلاسز، کچن ویئر، فروزن میٹ، جوسز، آئس کریم، سگریٹ، لگژری لیدر، میوزیکل آلات، چاکلیٹ سمیت تمام لگژری درآمدی اشیاء پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔