عمران خان دیوار سے لگانے کی بات کی آڑ میں این آر او مانگ رہا ہے؛ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ

1

اسلام آباد،6جولائی  (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان سب کچھ بتانا چاہتے ہیں تو بتائیں کہ 2014  میں دھرنا کس کے کہنے پر دیا،50ارب عوام کا ڈبو کر 5ارب کے اثاثے بنانے  اور بشیر میمن کے سوالات  کے کیا جوابات ہیں،عمران خان کو اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اقتدار میں نہیں ہے، عمران خان دیوار سے لگانے کی بات کی آڑ میں این آر او مانگ رہا ہے،ان کے حواریوں سے سوالات کیے جائیں تو وہ غداری ہے۔

 وہ بدھ کو پی ٹی وی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ وفاقی وزیررانا ثناء اللہ نے کہا کہ گذشتہ روز عمران خان نے ایک وڈیو جاری کی کہ ہمیں ہراساں،تنگ کیا جارہا ہے اور دیوار کے ساتھ لگایا جارہا ہے،اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوتو میں وہ سب کچھ بتا دوں گا، پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ بتائیں کہ آپ کو کیسے ہراساں کیاجارہا ہے، کیا آپ کے خلاف مقدمات قائم کیے جارہے ہیں یا کوٹ لکھ پت جیل میں بند، ادویات بند اور گھر سے کھانے سے سہولت نہیں دی جارہی۔ انہوں نے کہا کہ  گذشتہ ساڑھے تین سال عمران خان اپنے مخالفین کے ساتھ یہ سب کچھ کرتے رہے ہیں، آپ کے ساتھ تو ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

 وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ یہ سوال کرنا کہ اس قوم کا 50ارب کاغبن کرانے کے لئے 5ارب کے اثاثے اپنی اہلیہ، 240کنال بنی گالہ میں فرح کے نام پر جگہ حاصل کی،کیا یہ معلوما ت لینے یا سوال   کرنے سے آپ تنگ ہورہے ہیں، اس کا  آپ کو جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر قوم کو سب کچھ بتانے پر تل گئے ہیں تو یہ بھی بتائیں کہ ن لیگ دور حکومت میں دھرنے کس کے کہنے پر دیئے تھے، فرح گوگی اور ملک بھر میں گوگے جو لوٹ مار کر رہے تھے ان سے صرف سوال پوچھا جارہا ہے،ہرسال 700سے 1100ارب کے ترقیاتی فنڈز سے 5فیصد ٹی کے صاحب کو جاتا رہا ہے، وہ کون لوگ تھے جو بنی گالہ کے مکین تصور ہوتے تھے،جن کی آمدورفت کا ریکارڈ نہیں ہے، توشہ خانہ کا بھی جواب دینا ہوگا۔

 وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ بشیر میمن نے جو سوالات اٹھائے تھے،اس کے  جوابات کے علاوہ عمران خان ہر  بات کررہے ہیں،لیکن اس کاجواب نہیں دے رہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان اور فاضل بنچ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ جس کیس  میں میں6ماہ بے گنا بند رہا ہوں،اس معاملے میں بھی ازخود نوٹس لیا جائے،اگر میرا جرم ثابت ہو تو بڑی سزا دی جائے، اگر میرا قصور نہیں تو اس معاملے میں شامل لوگوں کو سزا دی جائے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو اقتدار سے علیحدگی اصل تنگی ہے، دھونس،دھاندلی کا دور ختم ہوچکا ہے، عمران خان بتائیں کہ کیا حکومت نے غیر قانونی، غیر آئینی اور غیر جمہوری عمل روکا یا لوگوں نے آپ کا ساتھ نہیں دیا، دو  اڑھائی ہزار شر پسند مسلح افراد اسلام آباد بھجوائے گئے، اگر فیملیز اور بچے آجاتے تو ہمیں علاقہ خالی کرانے میں مشکلات ہوتیں اور  شاہد زیادہ نقصان  ہوتا۔

 ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ عمران خان تو بنی گالہ میں خوش و خرم بیٹھا ہوا ہے،اس کے باوجود تنگ کرنے کی بات کر رہا ہے، ماضی میں عمران خان ایسسٹس ریکوری سیل کی آڑ میں انتقامی کارروائی کر رہے تھے، اب انھیں حوصلہ کرنا چاہیے، جو جھوٹے کیسز بناتے رہے ہیں اب انھیں سچے کیسز کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ 15سے 20کروڑ کی گھڑیاں چرانے والا کیسے صادق و امین ہوسکتا ہے، 15فیصد جمع کرائے باقی جیب میں ڈالے گئے۔

 انہوں نے کہا کہ عمران خان کی دھکمیوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے، قانون خود اپنا راستہ بنائے گا۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی آڈیو یا وڈیو ریکارڈنگ کسی کاجرم یا مجرمانہ فعل  کو ثابت کرنے کے لئے کی جاتی ہے ،وہ جرم نہیں اگر کسی کو بلیک میل کرنے کے لئے کی جائے تو غلط ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک خاتون جو خاتون اول بھی رہیں وہ اپنی کرپشن کو بچانے کے لئے غداری کے سرٹیفکیٹس دے رہی ہیں،اس کا  جواب دیا جائے کہ یہ کہا ہے کہ نہیں۔

وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کا اصل چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے،غریبوں کے لئے ریلیف بھی انھیں ہضم نہیں ہورہا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں  میں ردوبدل بھی ہوتواسے بھی ضمنی الیکشن سے جوڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اظہار رائے کو دبانے کی مذمت کرتے ہیں لیکن کوئی اپنے کردار سے آگے بڑھ کر سیاسی جماعت کا ورکر بن کر سیاسی جماعت کے بیانیے کو آگے بڑھانے کے لئے اپنے آپ کو پیش کرے تو صحافی یا اظہار رائے  کی آزادی شیلٹر کا استعمال نہیں ہونا چاہیے، عمران ریاض قابل احترام ہیں ان کی ویڈیو دیکھی جس میں کہہ رہے تھے کہ ہمیں فائلیں دکھائیں گئیں کیا آپ کرائے کے صحافی کے طور پر کام کرتے رہے ہیں، صحافتی تنظیمیں بھی اس کا نوٹس لیں۔