اسلام آباد،2جولائی (اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ ملک میں امن و سلامتی ہمارے شہداء کی مرہون منت ہے، شہداء کے اہل خانہ کی ہر طرح سے دیکھ بھال کریں گے، ملک کے امن کیلئے جان قربان کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، شہداء کو یاد نہ رکھنے والی قومیں زندہ نہیں رہتیں، شہداء کی قربانیاں قوموں کی تقدیر بدلتی ہیں۔
ہفتہ کو یہاں پولیس لائن میں شہداء کے خاندانوں سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ فرض کی ادائیگی میں ملک پر جان قربان کرنے والے اور ملک میں امن و امان کے قیام کیلئے جام شہادت نوش کرنے والوں کا عزت و احترام ہم سب پر فرض ہے، ہم خود کو ان کے ساتھ اس لئے منسوب کرتے ہیں کہ آج ملک کی پرامن فضاء ان کی قربانیوں کے باعث ممکن ہے، یہی وجہ ہے کہ آج اس تقریب کا انعقاد کیا گیا تاکہ وطن عزیز کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کیا جا سکے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک کے تحفظ کیلئے جان قربان کرنے والے شہید ہیں اور قرآن مجید میں بھی واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ فرض کی ادائیگی کے دوران جو خالق حقیقی سے جا ملے وہ بھی شہید ہے اور جو ملک دشمنوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کرے وہ بھی شہید ہے۔ انہوں نے کہا کہ سورہ بقرہ میں واضح کیا گیا ہے کہ شہداء کو مردہ نہ کہو کیونکہ وہ زندہ ہیں لیکن ہم اس کا شعور نہیں رکھتے۔ انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کہ آج سبھی شہداء ہماری اس مجلس کا حصہ ہوں لیکن ہم ان کو دیکھ تو نہیں سکتے محسوس کر سکتے ہیں، میں شہداء کے اہلخانہ کو سلام پیش کرتا ہوں اور خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ میں اس بات کو مناسب نہیں سمجھتا تاکہ شہداء کے اہلخانہ کی امداد کی فراہمی کے حوالہ سے تقریب کا اہتمام کیا جائے لیکن آئی جی نے کہا کہ اس حوالہ سے ہم شہداء کے اہلخانہ کو آگاہ کرچکے ہیں، ہم نے شہیدوں کے عزت و احترام میں تقریب منعقد کی جس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ ان کے فرض کی ادائیگی کو ایونٹ بنایا جائے لیکن ہم ان کے کردار کو خراج عقیدت پیش کرتے کیلئے اکٹھے ہوئے ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ جو قومیں شہداء کا احترام نہیں کرتیں وہ زندہ نہیں رہ سکتیں، شہداء کی قربانی قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ انہوں نے اس افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے اہلخانہ کو واجبات کی ادائیگی کی ارب 22 کروڑ روپے کی رقم گذشتہ پانچ چھ سال سے واجب الادا تھی اور ماضی کی حکومت نے اس حوالہ سے غفلت برتی جبکہ ہمارے نبی کریمﷺ کا فرمان ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے واجبات کی بروقت ادائیگی ہم پر لازم تھی اور یہ فرض فوری طور پر ادا ہونا چاہئے تھا لیکن اس میں تاخیر کی گئی جو ہمارے لئے باعث شرمندگی ہونا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت میں آنے کے بعد آئی جی پولیس سے ضروریات کے متعلق دریافت کیا تاکہ فرائض کو بہتر طور پر انجام دیا جا سکے تو انہوں نے اس حوالہ سے تفصیلات سے آگاہ کیا لیکن واجبات کی ادائیگی پہلی ترجیح نہیں تھی کیونکہ رقم زیادہ تھی جبکہ حکومت کی مالی پوزیشن یہ ہے کہ ہم ایک ایک روپے کیلئے محنت کر رہے ہیں، مجھے کہا گیا کہ رقم زیادہ ہے اس لئے آدھی اس سال اور آدھی اگلے سال ادا کر دی جائے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ اس پر میں نے کہا کہ یہ شہداء کے اہلخانہ کا حق ہے جو سب سے پہلے ادا ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف کا طرہ امتیاز ہے کہ وہ ہمیشہ اخراجات میں کمی کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس طرح کے معاملات میں وہ ایسا نہیں کرتے۔ واجبات کی ادائیگی کیلئے جب وزیراعظم سے درخواست کی تو انہوں نے کہا کہ اگر واجبات 22 ارب روپے بھی ہوں تو اسی سال ادا ہونے چاہئیں۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ دہشت گردی کی جنگ میں 80 ہزار کے قریب ہمارے عام شہری شہید ہوئے جبکہ پولیس، رینجرز، ایف سی اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے 12 ہزار اہلکار بھی شہید ہوئے۔ دہشت گردی کی جنگ کیلئے قوم نے بہت بڑی قیمت ادا کی ہے، قیمتی جانوں کے نذرانے کے علاوہ ہم نے 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان بھی اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک ارب ڈالر کیلئے آئی ایم ایف سے مذاکرات کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب دہشت گردی کی جنگ کے باعث معاشی نقصانات 150 ارب ڈالر سے زیادہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے آئی ایم ایف کے ساتھ ہر ممکن کوشش کی تاکہ تیل کی قیمت نہ بڑھانی پڑے اور عام آدمی کو مہنگائی سے بچایا جا سکے۔ پی ایم ایل کی قیادت اور ہماری حکومت قیمتوں میں اضافہ کسی صورت نہیں چاہتی تھی۔
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اگر ہم انتخابات میں جاتے تو ملک کے ڈیفالٹ کا خدشہ تھا اس لئے معاشی صورتحال کے پیش نظر مشکل فیصلے کئے تاکہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا جا سکے، اس مجبوری کے تحت تیل کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس سے بچنے کی کوئی صورت ممکن ہوتی تو ضرور کرتے تاکہ مہنگائی میں کمی لائی جا سکتی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا لیکن اس پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے حالیہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، ماضی کے حکمرانوں کی خامیوں کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس تقریب میں میں سیاسی بات نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن مجبوری کے تحت ایسا کر رہا ہوں کیونکہ مہنگائی سے شہداء کے اہلخانہ بھی متاثر ہیں اور حکومت عوام کی مشکلات سے پوری طرح آگاہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی اور امن و امان کی صورتحال میں بہتری کیلئے اگر تمام سیاسی قوتیں سر جوڑ کر نہیں بیٹھیں گی تو بہتری ممکن نہیں۔
قبل ازیں پولیس لائن آمد پر وفاقی وزیر داخلہ نے یاد گار شہداء پر حاضری دی اور پھول چڑھائے۔ اس موقع پر آئی جی پولیس اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان بھی موجود تھے۔











