وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال پر اجلاس منعقد

13

اسلام آباد، 25 اگست، ( اےپی پی): وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال پر اجلاس منعقد ہوا۔ تین گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں سیلاب متاثرین کے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کیلئے اہم فیصلے لیے گئے۔وزیرِ اعظم نے ملک میں سیلابی صورتحال کے حوالے سے ہنگامی بنیادوں پر تمام صوبائی حکومتوں کا اعلی سطح کا اجلاس طلب کر لیا۔اجلاس میں وزیرِ اعظم آزاد جموں و کشمیر، وزیرِ اعلی گلگت بلتستان سمیت چاروں صوبوں کے وزراءِ اعلی شریک ہونگے۔ وزیرِ اعظم نے سیلاب متاثرین کی امداد کو مزید تیز اور منظم کرنے کیلئے کمیٹیاں تشکیل دے دیں.

وفاقی وزراء اور اتحادی رہنماؤں کی سربراہی میں پینے کے صاف پانی، خیموں، مچھر دانیوں، ادویات و طبی امداد اور راشن پر علیحدہ علیحدہ کمیٹیاں تشکیل دیں۔ کمیٹیاں تمام صوبوں میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں مزکورہ اشیاء کی فوری فراہمی یقینی بنائیں گی. کمیٹیوں کا آج رات تک نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا جائے گا.

وزیرِ اعظم کا فوری طور پر اسلام آباد میں  سفراء کی کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا۔ سفراء کو حالیہ بارشوں اور سیلاب سے جانی و مالی نقصان پر اعتماد میں لیا جائے گا.  سفراء کو حکومت کے ریسکیو اور امدادی آپریشن سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا جائے گا.  وزیرِ اعظم کی وزارتِ خزانہ کو سیلاب متاثرین کے فوری ریسکیو اور مدد کیلئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لانے کی ہدایت کی۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے کہاکہ سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے جس قدر ہو سکے وسائل مہیا کریں۔

وزیرِ اعظم نے BISP کے تحت جاری فلڈ ریلیف کیش پروگرام میں تقسیم میں تعطل کا سخت نوٹس لیا۔ وزیرِ اعظم نے BISP کو 2 ستمبر تک فلڈ ریلیف کیش پروگرام کے تحت 25 ہزار فی متاثرہ خاندان پہنچانے کی دو ٹوک ہدایات کر دیں.  جو بنک اس ٹارگٹ کو پورا نہ کر سکے انکے خلاف سخت کاروائی کی جائے. وزیرِ اعظم کی ہدایت کی۔

اجلاس میں وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی فوری طور پر سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے اپنی تمام تر مشینری متاثرہ علاقوں میں بھیجے۔ اس امر کیلئے مشینری کم پڑنے کی صورت میں فوری طور پر نجی شعبے سے اسکا انتظام یقینی بنایا جائے.

وزیرِ اعظم کی متاثرہ علاقوں میں ریسکیو کیلئے کشتیوں کی یقینی فراہمی کے حوالے سے ڈی جی ایم او اور نیول چیف سے رابطے کی فوری ہدایت کی۔

وزیرِ اعظم کی متاثرہ علاقوں میں گھروں کے بڑی تعداد میں نقصان کے پیشِ نظر متاثرین کیلیے خیموں کی تعداد کو 50 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کرنے کی بھی ہدایت.

اجلاس میں وفاقی وزراء، چیئرمین NDMA, وزیرِ اعلی سندھ، چیف سیکٹریز،  PDMAs اور متعلقہ حکام  نے بھی شرکت شرکت کی۔