امراض قلب سے ہونے والی اموات کی شرح کو کم کرنے کے لئے عوام میں آگاہی پیدا کرنے  کی ضرورت ہے؛ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی

1

اسلام آباد،29ستمبر  (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے امراض قلب سے ہونے والی اموات کی شرح کو کم کرنے کے لئے عوام میں آگاہی پیدا کرنے اور صحت مند طرز زندگی اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ احتیاطی تدابیر اپنانے سے بیماری کے خطرے کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے جس سے قومی صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر بھی بوجھ کم ہوگا۔

 ان خیالات کا اظہار جمعرات کو یہاں ایوان صدر میں اسلام آباد کے ایک نجی ہسپتال کی جانب سے ”ورلڈ ہارٹ ڈے – 2022“ کی مناسبت سے منعقدہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں نامور طبی ماہرین اور دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔ رواں سال ورلڈ ہارٹ ڈے کو ”ہر دل کے لیے دل کا استعمال“ کے تھیم کے ساتھ منایا جارہا ہے جس کا مقصد لوگوں کو مختلف انداز میں سوچنے، درست فیصلے کرنے، دوسروں کی مدد کرنے اور ہر دل کے لیے قلبی صحت کے حصول میں مدد کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچنے کی ترغیب دینا ہے۔

صدر مملکت نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 25 فیصد اموات امراض قلب جبکہ دنیا بھر میں 18.6 ملین اموات دل کی بیماری اور فالج کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلند فشار خون، ذیابیطس، تمباکو نوشی، غیر صحت بخش خوراک، موٹاپا اور جسمانی ورزش نہ کرنا امراض قلب کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزرش کے ساتھ ساتھ پھلوں اور سبزیوں پر مشتمل صحت بخش غذا کا استعمال، سرخ گوشت، چکنائی اور تلی ہوئی ایشیاءسے پرہیز اور تمباکو نوشی کو ترک کرنے سمیت طرز زندگی میں تبدیلی سے امراض قلب کو روکا جاسکتا ہے۔

 صدر مملکت نے موثر اور مسلسل آگاہی مہم کے ذریعے بیماریوں سے بچائو کے طریقوں کے بارے میں مریضوں اور عام لوگوں کو آگاہی دینے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ ہمیں لوگوں کی ذہنی صحت کو بھی ترجیح دینی چاہیے جو نفسیاتی ماہرین اور دماغی صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں کی ناکافی تعداد کی وجہ سے علاج سے محروم ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کی ایک بڑی تعداد کو مختلف سطحوں کے تنائو اور ذہنی امراض کا سامنا ہے جس کا اثر دل کی بیماریوں کی صورت میں سامنے آرہا ہے۔ صدر مملکت نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ تنائو کو کم ، تنائو والے واقعات سے گریز اور اپنے سماجی طرز عمل میں نفرت اور غیبت کو ختم کرکے دوستوں، خاندان، پڑوسیوں، انسانیت اور فطرت کے لیے محبت اور نگہداشت کا ماحول پیدا کریں اور ہر فرد کی ذہنی صحت کا بہتر خیال رکھے جو ذہنی دبائو  کو کم کرنے میں مدد دے گا۔

 صدر مملکت نے صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والوں پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے مریضوں کے علاج کے دوران اپنی گفتگوکی مہارت اور اخلاقیات کو بہتر بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں طبی نگہداشت کی سہولیات کی فراہمی ایک بڑا چیلنج ہے، حکومت اور متعلقہ محکمے ملک میں صحت عامہ کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے موثر طریقے سے کام کررہے ہیں اور وہ امراض قلب کے علاوہ وبائی امراض کی روک تھام پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے انتھک اور مربوط کوششوں سے کورونا کے وبائی مرض پر موثرطریقے سے قابو پالیا اور ہم اسی طرح کا طریقہ اپنا کر امراض قلب کو کم کرسکتے ہیں۔

صدر مملکت نے امراض قلب اور اس کے خطرے کے عوامل کی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے اور قوم کو درپیش چیلنجوں کے مطابق صحت کی پالیسیوں کو بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی طبی تحقیق شروع کرنے کے ساتھ ساتھ علاج کی لاگت کو کم کرنے کے لیے مشینری اور آلات کی مقامی سطح پر ترقی اور تیاری کی ضرورت ہے تاکہ مہنگی مشینری کی درآمد کی وجہ سے مالی بوجھ کو کم کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پیدائشی طور پر دل کی بیماریوں کے نتیجے میں نوزائیدہ اور چھوٹے بچوں میں صحت کی خرابی ہے۔

 صدر مملکت نے پاکستان کے صحت کے شعبے پر زور دیا کہ وہ ملک میں جین ایڈیٹنگ کی مقامی تحقیق اور ترقی کی جانب توجہ مرکوز کرے اور ترقی یافتہ دنیا میں ہونے والی تحقیق سے فائدہ اٹھائے تاکہ پیدائشی بیماریوں کے علاج کے لیے ناقص جینز کو صحت مند جینز سے تبدیل کیا جاسکے۔انہوں نے صحت کے شعبہ سے وابستہ ماہرین پر زور دیا کہ وہ امراض قلب کے علاج کے طریقہ کار کو آسان بنائے تاکہ معاشرے کے پسماندہ اور کم آمدنی والے طبقہ بھی صحت کی سہولیات سے مستفید ہوسکے۔

 اس موقع پر ہسپتال کے سی ای او ہارون نصیر نے بھی خطاب کیا، امراض قلب کے پیڈیاٹرک سرجن ڈاکٹر ماہم اکمل ملک اور ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر میر عبدالوحید نے شرکاءکو ”ورلڈ ہارٹ ڈے اور قلبی صحت “کے بارے میں آگاہ کیا۔

 ڈاکٹر میر عبدالوحید نے اپنے خطاب میں ”ورلڈ ہارٹ ڈے – 2022“ کو منانے کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امراض قلب کے حوالے سے آگاہی قوم پر امراض قلب کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

قبل ازیں صدر مملکت نے نجی ہسپتال میں نمایاں خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹروں میں شیلڈز بھی تقسیم کئے۔