آئینی طریقہ سے  اقتدار سے ہٹائے جانے والاشخص ریاست کو بلیک میل کر رہا ہے؛ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف

14

اسلام آباد،19اکتوبر  (اے پی پی):وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ قانونی اور آئینی طریقہ سے  اقتدار سے ہٹائے جانے والاشخص ریاست کو بلیک میل کر رہا ہے، اقتدار کی جنگ بعد میں بھی لڑی جاسکتی ہے، ریاست کے معاملات کو مل بیٹھ کر حل کرنے کی ضرورت ہے،  ماضی میں حکمران اشرافیہ کی جانب سے جو غلطیاں سرزد ہوئی ہیں آج اسی کا کڑوا پھل کاٹ رہے ہیں ۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے سردار اختر مینگل کی طرف سے اٹھائے گئے نکات کے جواب میں کہا کہ سردار اختر مینگل نے جو کچھ  اس ایوان میں کہا ہے اس سے اختلاف نہیں کیا جاسکتا، جو زخم ریاست کے وجود سے رس رہا ہے اس پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے،  قوم نے جن کو وقار اور توقیر دی ہے ان کا فرض  بنتا ہے کہ وہ ریاست کے وجود کو درپیش مسائل کا حل ڈھونڈیں، اختر مینگل نے ایسے معاملات اٹھائے ہیں جو ہماری ریاست کے جسم پر رستے ہوئے زخم ہیں، انہیں نظرنداز کرنا مہلک ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کچھ ایسے اقدامات پورے زور و شور کے ساتھ کئے گئے، اگر ان تمام اقدامات کو ماضی میں دیکھا جاتا تو حالات یہ نہ ہوتے، یہ بڑا گھمبیر اور ہماری ریاست کا مسئلہ ہے، یہ کسی فرد واحد یا کسی ایک شخص کا نہیں ساری قوم کا ہے۔

 خواجہ محمد آصف نے کہا کہ کئی ایسے معاملات ہیں جن پر ہمیں سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گیارہ بارہ سال پہلے سوات میں جو کچھ ہوا اب وہاں پر ایک مرتبہ پھر وہی کچھ شروع ہوگیا ہے۔ ایک بات خوش کن ہے کہ سوات کے لوگ بغیر کسی سیاسی اختلاف کے بازاروں میں نکل آئے۔ جمہوری معاشروں میں ایسا ہوتا ہے  ۔ سوات اور بعض دوسرے علاقوں میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ آگ سب کے دامن تک پہنچ سکتی ہے، وزیراعظم کو یہ مسئلہ اعلیٰ سطح  پر حل کرنے کے لئے فوری توجہ دینا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ایک قوم کی حیثیت سے ہم یہ بوجھ اپنے کندھوں سے کب اتاریں گے۔

 سردار اختر مینگل کی طرف سے اٹھائے گئے نکات پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ نے کہا کہ دہشتگردی اور بلوچستان میں لاپتہ افراد کے حوالے سے انہوں نے کابینہ کے اجلاس میں بات کی ہے ،ہم حالات سے منہ نہیں موڑ سکتے، شکر ہے کہ پارلیمان میں مینگل جیسے رہنما موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور فاٹا میں جو کچھ ہوا وہ افسوسناک ہے، موجودہ حالات میں مضبوط فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔کوئی سیاستدان نہیں چاہتا کہ پارلیمان اور سیاست کو بے توقیر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں برداشت ختم ہو رہی ہے۔  عوام کو تحفظ دینا ضروری ہے، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ہمیں مل بیٹھ  کر فیصلے کرنے چاہئیں۔

وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے کہا ہے کہ  اختر مینگل نے جن مسائل کی نشاندہی کی ہے وہ بدقسمتی سے  درست  ہیں ، حکومت میں اس طرح کی باتیں سننے کی ایک تاثیر ہے اور اپوزیشن میں اس کی تاثیر بدل جاتی ہے، سوات اور کراچی کی تکلیفوں اور دکھوں کو پورے ملک نے محسوس کرنا ہوگا۔   انہوں نے کہا کہ ملک کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا حل اتنا مشکل نہیں ہے۔ 1973ء کے آئین پر اگر عمل کرلیا جائے تو ہمارے مسائل جلد ہو سکتے ہیں اور ہماری 90 فیصد محرومیاں بھی ختم ہو جائیں گی مگر اس ملک میں ایک شخص  لاڈلا بنا دیا جاتا ہے۔

 میاں جاوید لطیف نے کہا کہ سابق وزیراعظم چوک چوراہوں میں  متنازع بیان دیتے ہیں مگر کوئی ان سے پوچھ گچھ نہیں ہوتی، سابق وزیراعظم بیک ڈور مذاکرات کی باتیں بھی کر رہے ہیں، وہ بیک ڈور چینل کون سا ہے اور وہ کس سے اور کس حیثیت سے مذاکرات کر رہا ہے، اس پر بات ہونی چاہیے۔

بدھ کو قومی اسمبلی میں بلوچستان اور دہشتگردی کی صورتحال پر وزراء اور اراکین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ٹرتھ اینڈ ری کنسلی ایشن کمیشن کے قیام کی تجویز بھی ایوان میں پیش کی گئی۔ بعد ازاں قائم مقام سپیکر زاہد اکرم درانی نے قومی اسمبلی کا اجلاس (کل) جمعرات کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا ۔