بھارت  پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپنی غیر مستقل رکنیت کا غلط استعمال جاری رکھے ہوئے ہے؛ترجمان دفتر خارجہ

11

اسلام آباد،24نومبر  (اے پی پی):ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا ہے کہ بھارت غلط بیانیوں اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپنی غیر مستقل رکنیت کا غلط استعمال جاری رکھے ہوئے ہے، بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن  بننے کی اہلیت نہیں رکھتا، بھارت کو غیر قانونی زیرتسلط  جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کو بند کرنا چاہیے۔

 جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ روز سلامتی کونسل کی بریفنگ میں پاکستان کے خلاف بھارت کے غیر ضروری ریمارکس کو سختی سے مسترد کیا ہے ، بدقسمتی سے، بھارت غلط بیانیوں اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اپنی غیر مستقل رکنیت اور 1373 کاؤنٹر ٹیررازم کمیٹی (سی ٹی سی) کی چیئر کا غلط استعمال جاری رکھے ہوئے ہے۔ سلامتی کونسل میں ہندوستان کا غیرمستقل رکن کے طور پر غیر ذمہ دارانہ رویہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اس کے پاس سلامتی کونسل کے مستقل رکن  بننے کی اہلیت نہیں ہے۔ ترجمان نے کہا کہ  بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں دیکھی گئی ہے کیونکہ یہ ابھی تک فوجی محاصرے میں ہے اور وہاں بھارتی ظلم و ستم جاری ہے۔ ماورائے عدالت قتل کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے گزشتہ ہفتے بھارتی قابض افواج نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے اسلام آباد اور شوپیاں اضلاع میں دو کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کر دیا۔ بھارتی قابض افواج بھی بے گناہ نوجوانوں کو اپنی حراست میں لے کر قتل کرنے میں مصروف ہیں، یہ صورتحال پاکستان کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ہمیں کشمیری سیاسی قیدیوں بشمول حریت کانفرنس کے رہنماؤں اور انسانی حقوق کے محافظوں کے بارے میں بھی گہری تشویش ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور انہیں فوری رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا  کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت انسانی حقوق کی بارہ بین الاقوامی تنظیموں نے مشترکہ طور پر انسانی حقوق کے رہنما خرم پرویز کی فوری اور غیر مشروط رہائی کے لیے آواز اٹھائی ہے جو اس وقت بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو غیر قانونی  زیر تسلط  جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی اپنی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کو ختم کرنا چاہیے، 5 اگست 2019 کے اپنے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو منسوخ کرنا چاہیے اور کشمیری رہنماؤں سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنا چاہیے۔

ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ شرم الشیخ (مصر) میں منعقدہ کاپ-27  میں ہونے والی بحث اور اس کے نتائج سے حوصلہ افزا رہے، ہم خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کی فوری ضروریات کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کے لیے موسمیاتی آفات سے ہونے والے “ضیاع اور نقصان” سے نمٹنے کے لیے ایک فنڈ قائم کرنے کے فیصلے پر خوش ہیں۔  ہم کاپ-27  پر اتفاق رائے کو خاص طور پر گروپ آف 77 اور چین کے لیے ایک اہم کامیابی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک گزشتہ 30 سالوں سے ایسے فنڈ کا مطالبہ کر رہے تھے۔  موسمیاتی تبدیلی کے مذاکرات کی تاریخ میں پہلی بار ضیاع اور نقصان کے لیے فنانسنگ کے اصول پر پیشرفت کی ہے، اس تناظر میں یہ تاریخی اقدام ہے۔ یہ خاص طور پر موسمیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کا شکار ترقی پذیر ممالک جیسے کہ پاکستان میں ہونے والے ضیاع اور نقصانات کا ازالہ کرنے میں معاون ثابت ہو گا،  ہم فنڈ کے جلد آپریشنل ہونے کے منتظر ہیں اور امید کرتے ہیں کہ یہ کلائمیٹ فنانس انفراسٹرکچر میں ایک بڑا خلا پُر کرے گا۔

 ترجمان نے کہا کہ جب ستمبر میں نیویارک میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں جی 77 اور چین کا اجلاس ہوا تو اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ترقی پذیر ممالک اسے کاپ-27 کے ایجنڈے کی ترجیح بنائیں گے، پاکستان نے فنڈ کے قیام کے لیے حمایت حاصل کی اور شرم الشیخ میں ترقی پذیر ممالک کی جانب سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ترقی پذیر ممالک کو ضیاع اور نقصان کے فنڈ کے لیے کیس کو آگے بڑھانے میں مثالی یکجہتی اور ثابت قدمی پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔  ہم ضیاع اور نقصان پر عمل کرنے کی ضرورت کو تسلیم کرنے میں ترقی یافتہ ممالک کی سمجھ بوجھ اور تعاون کی بھی تعریف کرتے ہیں۔

 ترجمان نے کہا کہ صدر رجب طیب اردگان کی دعوت پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف 25 سے 26 نومبر 2022 تک ترکیہ کا دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔  وزیر اعظم شہباز شریف اس دوران صدر اردگان کے ساتھ مشترکہ طور پر استنبول شپ یارڈ میں پاک بحریہ کے لیے چار ملجم کارویٹ شپس میں سے تیسرے، پی این ایس خیبر کا افتتاح کریں گے۔ دونوں رہنما دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور مشترکہ دلچسپی کے دیگر امور پر بھی بات چیت کریں گے۔ وزیراعظم ترکیہ کی کاروباری برادری کے رہنماؤں سے بات چیت کریں گے۔ ای سی او ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ بینک (ای ٹی ڈی بی) کے صدر بھی استنبول میں اپنے قیام کے دوران وزیراعظم سے ملاقات کریں گے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان اور ترکی کے بہترین برادرانہ تعلقات ہیں جو مشترکہ عقیدے، ثقافت اور تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں اور غیر معمولی ہم آہنگی اور باہمی اعتماد پر مبنی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون پر مبنی  ملجم  منصوبہ پاکستان-ترکیہ اسٹریٹجک پارٹنرشپ میں ایک اہم سنگ میل کی نمائندگی کرتا ہے جس میں پیش رفت جاری ہے۔انہوں نے  بتایا کہ  پاک بحریہ کے لیے پہلے کارویٹ پی این ایس بابر کی لانچنگ تقریب اگست 2021 میں استنبول میں کی گئی تھی جبکہ دوسرے جہاز پی این ایس بدر کی تقریب مئی 2022 میں کراچی میں منعقد کی گئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ قیادت کی سطح پر متواتر تبادلے پاکستان – ترک دوستی کے لازوال رشتوں کی ایک واضح خصوصیت ہیں۔ وزیر اعظم نے قبل ازیں مئی-جون 2022 میں ترکیہ کا دورہ کیا تھا۔

 ترجمان نے کہا کہ اس ہفتے ایک اہم پیش رفت پاکستان اور جمہوریہ ڈومینیکن کے درمیان سفارتی تعلقات کا قیام ہے۔ اس سلسلے میں 18 نومبر 2022 کو نیویارک میں پاکستان اور ڈومینیکن ریپبلک کے مستقل نمائندوں نے ایک باضابطہ مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے تھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سفارتی تعلقات کے قیام سے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں کھلیں گی۔ ڈومینیکن ریپبلک کے ساتھ سفارتی تعلقات کا قیام دنیا بھر میں سفارتی تعلقات کو وسعت دینے کی ہماری کوششوں کا حصہ ہے۔ پاکستان تمام براعظموں میں اپنی سفارتی مصروفیات میں اضافہ جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے 22-23 نومبر 2022 کو مراکش میں منعقدہ اقوام متحدہ کے اتحاد برائے تہذیبوں کے 9ویں عالمی فورم کے وزارتی اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے امور خارجہ نے قازقستان کے نائب وزیر خارجہ کیرات عمروف، سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ ولید الخیریجی اور پرتگالی وزیر خارجہ جواؤ کروینہو سے ملاقاتیں کیں۔ فورم میں وزیر مملکت نے دنیا بھر میں مذہبی عدم برداشت، امتیازی سلوک، اسلامو فوبیا اور تشدد کے بڑھتے ہوئے مسئلے کے بارے میں پاکستان کے نقطہ نظر اور خدشات کو بیان کیا۔ انہوں نے پرامن بقائے باہمی، باہمی افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے مسلسل اور مضبوط بین تہذیبی اور بین المذاہب مکالمے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

 ترجمان نے مزید کہا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے قازقستان کے صدر کو 20 نومبر 2022 کو ہونے والے انتخابات میں دوبارہ ملک کا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی۔ پاکستان قازقستان کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات کو برقرار رکھے گا۔ وزیر اعظم نے انور بن ابراہیم کو حالیہ عام انتخابات کے بعد ملائیشیا کے 10ویں وزیر اعظم کے طور پر تقرری پر مبارکباد پیش کی۔ پاکستان ملائیشیا کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور پرامن انتخابات اور اقتدار کی منتقلی کے عمل کا خیرمقدم کرتا ہے جو ملائیشیا میں مضبوط جمہوریت کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے انڈونیشیا میں زلزلے کی المناک خبر اور اس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ہم مرنے والوں کے اہل خانہ سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہیں۔ پاکستان قومی سانحے کی اس گھڑی میں انڈونیشیا کے برادر عوام اور حکومت کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔

 ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک کے ساتھ بات چیت اور دوستی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس پالیسی کا ایک اہم ستون علاقائی تنظیموں اور فورمز میں شرکت اور ان کی شمولیت ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان کا ایک وفد 20 سے 25 نومبر 2022 تک کمبوڈیا میں 43ویں آسیان بین الپارلیمان اسمبلی میں شرکت کر رہا ہے۔ پاکستانی وفد کی قیادت ممبر قومی اسمبلی صلاح الدین کر رہے ہیں۔ بین الپارلیمان اسمبلی کا انعقاد “پائیدار، جامع اور لچکدار آسیان کے لیے ایک ساتھ آگے بڑھنا” کے موضوع کے تحت کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کو گزشتہ سال آسیان کی بین الپارلیمانی اسمبلی کے مبصر کا درجہ دیا گیا تھا اس لحاظ سے اس میں ہماری شرکت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ پاکستان آسیان کے ساتھ اپنے تعلقات کو دیتا ہے اور آسیان کے اراکین کے ساتھ اپنی مصروفیات کو بڑھانے کی اس کی شدید خواہش ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تیسرے چائنا-جنوبی ایشیا تعاون فورم میں بھی شرکت کی، شرکاء میں پاکستان کے علاوہ افغانستان، بنگلہ دیش، مالدیپ، نیپال، عمان اور سری لنکا کے وزرائے خارجہ اور اعلیٰ حکام شامل تھے۔