اوکاڑہ: انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹیٹیوٹ پاکستان کےزیر اہتمام پانی کی دستیابی پراسٹیک ہولڈرز کی ورکشاپ کا انعقاد

33

اوکاڑہ،26جنوری (اے پی پی): انٹرنیشنل واٹر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے فیلڈ آفس میں ضلع اوکاڑہ کے لیے مستقبل میں پانی کی دستیابی پر اسٹیک ہولڈرز کی ورکشاپ کا انعقاد کیا۔اس موقع پرآئی ڈبلیو ایم آ ئی کے نمائندہ پاکستان ڈاکٹر محسن حفیظ نے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے جس سے نمٹنے کے لیے ہمارا ادارہ حکومت برطانیہ کی مالی معاونت آبی قوانینِ اور پالیسیوں کے بہتر عمل درآمد کو یقینی بنا رہا ہے جس کے لئے صوبہ پنجاب  سے ضلع اوکاڑہ کو  منتخب کیا گیا ہے۔اس ضلع میں زیر زمین آبی زخائر اور مستقبل میں اس کی یقینی دستیابی کے لیے مختلف سائنسی اور تحقیقی تجربات کا آغازکیا گیا۔ان تجربات کی روشنی میں پورے پنجاب میں آبی وسائل کے بہتر عمل درآمد میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب واٹر ایکٹ 2019 پانی کے استعمال کو ریگولیٹ کرنے اور صوبہ پنجاب میں اس کی پائیداری کے لیے قابل عمل پالیسی معاونت فراہم کرنے کے لیے ایک کلیدی قانون سازی ہے۔ پنجاب واٹر کمیشن اور پنجاب واٹر سروسز ریگولیٹری اتھارٹی قائم کر دی گئی ہے۔ تاہم، ضلع اوکاڑہ کی سطح پر، پنجاب واٹر ایکٹ 2019 کا علم اور سمجھ محدود ہے۔ڈاکٹر محمد جاوید، ڈائریکٹر، سوشل اینڈ انوائرمنٹ منیجمنٹ، اسٹریٹجک پلاننگ اینڈ ریفارم یونٹ (SPRU)، پنجاب اریگیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے پنجاب میں پانی سے متعلق چیلنجز اور پنجاب واٹر ایکٹ 2019 کے نمایاں خدوخال پر ایک پریزنٹیشن دی۔ڈاکٹر مقصود احمد، ڈائریکٹر، ٹریننگ/لاہور آفس، آن فارم واٹر مینجمنٹ (OFWM)، پنجاب اریگیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے زرعی شعبے کے لیے پنجاب واٹر ایکٹ 2019 کی اہمیت پر ایک پریزنٹیشن دی۔

ڈاکٹر عبدالرحمن چیمہ، ریجنل ریسرچر – واٹر گورننس اور ادارہ جاتی ماہر، IWMI پاکستان نے پانی کے شعبے میں پائیداری سے نمٹنے کے طریقوں پر مکالمے کا انعقاد کیا جس میں کسانوں اور شہری پانی استعمال کرنے والوں نے مکالمے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ورکشاپ میں ضلعی حکومت، پی آئی ڈی، او ایف ڈبلیو ایم، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ، تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن، شہری گھرانوں، کسانوں، تعلیمی اداروں اور میڈیا کے افسران نے شرکت کی۔