پی ٹی آئی قیادت کی سوچ نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے ، اگر میں نہیں تو کوئی نہیں ،یہ سیاسی سوچ نہیں ہے؛وفاقی وزیر قانون

7

لاہور،18مارچ  (اے پی پی):وفاقی وزیر قانون  سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت کی سوچ نہ کھیلیں گے نہ کھیلنے دیں گے اور اگر میں نہیں تو کوئی نہیں ،یہ سیاسی سوچ نہیں ہے۔

ہفتہ کو یہاں   پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے  اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سیاست میں دلائل سے بات منوائی جاتی ہے، سیاستدان جتھے لے کر حملہ آور نہیں ہوتے، سیاست ڈنڈے اور پتھر اٹھانے کا سبق نہیں دیتی۔عدالت کے باہر افسوسناک صورتحال دیکھنے کو ملی، یہ کوئی سزائے موت یا عمر قید کا کیس نہیں تھا۔انہوں  نے کہا کہ دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگانے والوں نے قانون کا مذاق اڑایا، عمران خان کی حاضری کے دستخط کا معمہ بنا ہوا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اسلام آباد پولیس وارنٹ کی تعمیل کے لئے زمان پارک گئی اور لاہور پولیس نے معاونت کی، زمان پارک میں درجنوں پولیس اہلکار زخمی ہوئے، میڈیا پر یہ خبر بھی چلی کہ گلگت بلتستان کی پولیس بھی وہاں اسلحہ کے ساتھ موجود تھی، اس ساری صورتحال میں لاہور پولیس نے جانی نقصان سے بچنے کے لئے تحمل کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے اندر ریاست کو بننے سے روکنے کے لیے ایکشن کیا گیا ہے، زمان پارک کے قریبی رہائشی شکر ادا کررہے ہیں کہ ارد گرد کا علاقہ کلیئر ہوا، ریاست کو یرغمال بناکر مرضی کے فیصلے مسلط کرنا تاریخ میں نہیں دیکھا ۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ نے کہا کہ نواز شریف تین مرتبہ وزیراعظم رہے، ان کے ساتھ پری پول اور پوسٹ پول رگنگ  بھی کی گئی ،کیا وہ ایسا نہیں کرسکتے تھے، کیا آصف زرداری نے ایسا کیا  جو لوگ سیاست اور حکومتی امور کو سمجھتے ہیں ،وہ قانون کا راستہ لیتے ہیں۔ انہوں  نے کہا کہ فسطائیت کسی صورت دائمی نہیں رہتی، عمران خان کے ساتھ آنے والے  لوگ کھلم کھلا بغاوت کی دعوت دے رہے ہیں ۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی شکایت پر ٹرائل شروع کیا گیا ، اسی طرح الیکشن کمیشن کی جعلی ڈگریوں سے متعلق شکایت کے کیسزبھی عدالتوں کو بھجوائے گئے، یہ کوئی انتقامی کارروائی نہیں ،قانونی تقاضے ہوتے ہیں جن پارلیمنٹیرین کے خلاف فیصلے آئے انہوں نے  سامنا کیا  مگر مستقل ایک شخص بضد ہے کہ اس نے قانونی پراسیس کے آگے سرنڈر نہیں کرنا، توشہ خانہ کیس انفرادی نہیں ایک ادارے نے پوری تحقیقات کے ساتھ اس پر کام کیا، بیان دیئے جارہے ہیں کہ زمان پارک ایکشن پی ڈی ایم حکومت نے کیا ،پنجاب میں نگران کابینہ ہے جو اپنے معاملات میں آزاد ہیں، اسلام آباد جیسے شہر میں ان لوگوں کو ٹیئر گیس شیل اور گن کس نے دیئے، تحقیقات ہوں گی۔

وفاقی وزیر قانون نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ صورت کے پیش نظر ریاست قانونی دائرے میں رہ کر جواب دینا جانتی ہے، گزشتہ پیشی پر جوڈیشل کمپلیکس میں کیمرے سے لے کر قیمتی املاک کو نقصان پہنچایا گیا ۔انہوں  نے کہا کہ ہمیں رویوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے ،قانون اور انصاف کو اپنا راستہ لینا چاہیے، سیاستدانوں کو ایک ایک گھڑی لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں  ،انہوں نے کہا کہ کیا پہلے کسی شخص یا سیاسی لیڈر کو عدالت سے سزا نہیں ہوئی ۔

 ایک سوال پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد پولیس وارنٹ کی تعمیل کے لیے آئی  اور لاہور پولیس نے بردباری دکھائی جبکہ  وہاں اندر گلگت بلتستان کی پولیس موجود تھی ،ریاست کے صبر کا امتحان نہیں لینا چاہیے، نہ کھیڈا گے نہ کھیڈن دیاں گے یہ کوئی سیاسی سوچ نہیں ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج کا آپریشن پنجاب میں نگران حکومت نے کیا ہے ،بہتر ہے سوال بھی ان سے پوچھا جائے،بطور وفاقی حکومت نمائندہ میں اس پر جواب نہیں دے سکتا ۔