معیشت کی بحالی کے بعد معیشت کو نمو کی طرف لیکر جانا اور پاکستان کو اب معاشی قوت بنانا ہے، ترقیاتی کاموں سے ملک میں معیشت کا پہیہ چلے گا اور لوگوں کو روزگار ملے گا، سینیٹر اسحاق ڈار

13

 

اسلام آباد۔10جون  (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مشکل  فیصلوں کے ذریعے  معیشت کی گراوٹ  کا عمل رک چکا ہے ، معیشت کی بحالی کے بعد اب معیشت کو نمو کی طرف لیکر جانا ہے اور اسے دوبارہ دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت بنانا ہے،پاکستان کو ایٹمی طاقت کے بعد اب معاشی قوت بنانا ہے ، معاشی ترقی اور بجٹ کے تمام اہداف قابل حصول اور عملی ہیں، وفاق اور صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام پر حقیقی معنوں میں عمل ہوا تو 3.5فیصد کے نمو کا ہدف آسانی سے حاصل کر لیں گے، ہمارا بنیادی ہدف 2017ء کے معاشی اشاریوں  کو دوبارہ حاصل کرنا ہے، تنخواہوں میں اضافہ بنیادی تنخواہ پر ایڈہاک ریلیف کی صورت میں دیا جائے گا، پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی شرح میں اضافے کا کوئی ارادہ نہیں، تازہ اور پراسیسڈ دودھ پر کوئی سیلز ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، دفاعی بجٹ مجموعی قومی پیداوار کا 1.7 فیصد ہے جو ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ نہیں ہے، ایئر پورٹس کی آئوٹ سورسنگ کے حوالے سے اقدامات جاری ہیں، کوشش ہے کہ جولائی تک پہلے ایئرپورٹ کی آئوٹ سورسنگ کے حوالے سے بولی ہو جائے،  پاکستان دیوالیہ نہیں ہو گا، بجلی کے شعبہ میں اصلاحات کیلئے کوشاں ہیں، ہر سال ایک ہزار ارب روپے کی سبسڈی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیر مملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، سیکرٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور دیگرسینئر عہدیدار بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ منظور ہونے کے بعد عمومی طور پر ایف بی آر دو کمیٹیاں تشکیل دیتی ہے اس میں ایک تجارتی اور ایک تکنیکی کمیٹی شامل ہوتی ہے۔ چیئرمین ایف بی آر آج اس کی منظوری لیں گے اور یہ کمیٹیاں بجٹ کی منظوری تک کام کریں گی۔ جو بھی جائز مسائل ہونگے کمیٹیاں اس حوالے سے سفارشات مرتب کر کے حکومت کو دیں گی جوفنانس بل میں شامل ہونگی۔ اسی طرح سینیٹ کی سفارشات بھی شامل کی جائیں گی، ماضی میں بجٹ کے حوالے سے سینیٹ کی سفارشات کو مسترد کیا جاتا تھا مگر اب ہم اس کو سنجیدہ لے رہے ہیں اور حقیقت پسندانہ اور قابل عمل تجاویز کو اس میں شامل کیا جاتا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس سال معاشی ترقی کا ہدف 3.5 فیصد رکھا گیا ہے، مجموعی محصولات 12163 ارب روپے ہیں جس میں 9200 ارب روپے ایف بی آر اور 2963 ارب روپے نان ٹیکس ریونیو کی مد میں حاصل ہونگے۔ فیڈرل ریونیو کا  مجموعی حجم 14463 ارب روپے ہے جس میں 7301 ارب روپے مارک اپ کے شامل ہیں، دفاع کیلئے 1804 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، پنشن کی مد میں 761 ارب روپے اور جاری اخراجات 714 ارب روپے ہیں۔ وفاقی حکومت کا مجموعی خسارہ7573 ارب روپے ہو گا، خسارہ 9 فیصد سے کم ہو کر 7 فیصد کی شرح پر آ گیا ہے۔ پرائمری بیلنس 380 ملین ڈالر ہے جو جی ڈی پی کا 0.4 فیصد بنتا ہے۔ مجموعی جی ڈی پی 105 ٹریلین روپے کا ہو گا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر ملک کی ترقی کا پہیہ چلے گا تو ترقی ہو گی، ہماری حکومت نے پہلی مرتبہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کو 1150 ارب روپے تک بڑھا دیا ہے۔ اس میں 491 ارب روپے بنیادی ڈھانچے کیلئے مختص ہیں۔ سماجی بہبود، تعلیم، ایس ڈی جیز، پانی، فزیکل پلاننگ سمیت اہم شعبوں کیلئے فنڈز مختص ہیں، سابق فاٹا اور پاٹا کے منصوبوں کیلئے 61 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، زرعی خود کفالت کیلئے 45 ارب روپے کے منصوبے ہیں، اسی طرح آئی ٹی اور سائنس کیلئے بھی رقوم مختص کی گئی ہیں، صوبوں کا ترقیاتی بجٹ 1509 ارب روپے کے قریب ہو گا، مجھے یقین ہے کہ اگر پی ایس ڈی پی پر صحیح عمل ہوا اور صوبے بھی اس پر حقیقی بنیادوں پر عمل کرینگے تو 3.5 فیصد شرح نمو کا ہدف حاصل کرینگے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے مالی سال 2024ء کیلئے پاکستان کی شرح نمو کا ہدف 2 فیصد لگایا ہے تاہم آئی ایم ایف ساڑھے 3 فیصد، بلومبرگ 4 فیصد   اور  فچ نے بھی 4 فیصد شرح نمو کا اندازہ لگایا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ افراط زر کی شرح 21 فیصد  متوقع ہے ، جی ڈی پی کے تناسب سے محصولات کی شرح 8.7 فیصد، خسارے کی شرح 6.5 فیصد اور پرائمری بیلنس 0.4 فیصد ہے۔ جی ڈی پی کے تناسب سے قرضوں کی شرح 66.5فیصد ہے، سابق حکومت نے 25 ٹریلین قرضے کو 49 ٹریلین تک پہنچا دیا تھا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اقتصادی نموہو گی تو روزگار کے مواقع بھی بڑھیں گے، ہمارا بنیادی ہدف 2017ء کے معاشی اشاریوں  کو دوبارہ حاصل کرنا ہے۔ اس مقصد کیلئے ہم نے زراعت پرخصوصی توجہ مرکوز کی ہے، کیونکہ پوری دنیا میں زراعت وہ واحد شعبہ ہے جہاں تیزی سے ریٹرن ملتا ہے، الحمدللہ معیشت میں گراوٹ کا عمل رک چکا ہے، اب ہم نے معیشت کو نمو کی طرف لیجانا ہے اوراسے اب دوبارہ دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  انفارمیشن ٹیکنالوجی اہم شعبہ ہے، اس شعبے کی ترقی کیلئے نئے مالی سال کے وفاقی بجٹ میں اہم اقدامات کئے گئے ہیں ، تین سال کیلئے ٹیکسوں میں رعایت دی جا رہی ہے، نئے سٹارٹ اپس کو 24 ہزار ڈالر سالانہ ٹرن اوور پر ٹیکس کی چھوٹ دی گئی ہے اسی طرح پچاس ہزار ڈالر برآمدات کی صورت میں ایک فیصد کی شرح سے ڈیوٹی فری کی سہولت دی جا رہی ہے، آئی ٹی کے حوالے سے خصوصی اقتصادی زونز کو بھی ترقی دی جا رہی ہے اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کررہے ہیں۔