اسلام آباد اور اسکے اداروں کو ماڈل بنائیں گے؛ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان

18

اسلام آبا،13جولائی(اے پی پی):وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ اسلام آباد  اور اسکے اداروں کو ماڈل بنائیں گے، وفاقی دارالحکومت میں ایک سال کے دوران 100 ارب کے منصوبے مکمل کئے گئے ، 150 ارب کے منصوبے جاری ہیں ۔

 وہ جمعرات کو وویمن پولیس سٹیشن کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے ۔ آئی جی اسلام آباد ، ن لیگ کی مقامی قیادت بھی اس تقریب میں موجود تھی ۔ تقریب سے خطاب کر تے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ  اسلام آباد میں پوری دنیا سے لوگ آتے ہیں ، اکثریت اسلام آباد کو دیکھ کر یہ اندازہ لگاتی ہے کہ پاکستان کیسا ہے ،ایسے میں  اسلام آباد ، اسلام آباد کے  اداروں بلخصوص اسلام آباد پولیس کو  ماڈل بنایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ  وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ہم نے ایک سال میں پوری کوشش کی کہ عوامی خدمت کی نوعیت کے منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے ۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ بارہ کہو فلائی اوور کی تکمیل کے بعد نہ صرف راولپنڈی اسلام  آباد بلکہ  ملک کے مختلف حصوں سے مری ، آزاد کشمیر جانے والے افراد کو ایک بہترین سفری سہولت فراہم ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ  وویمن پولیس سٹیشن کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس کے لئے عمارت بہت خستہ تھی ، آئی جی اسلام آباد  نے اپنے دیگر مطالبات کے ساتھ اس عمارت کی تعمیر کی درخواست بھی کی تھی جس کی روشنی میں آج اس عمارت کا سنگ بنیاد رکھا جارہا ہے ،قلیل مدت میں یہ عمارت مکمل کی جائے گی ۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو ہمارے سامنے یہ معاملہ رکھا گیا کہ ایک ارب 40 کروڑ روپے شہدا کے خاندانوں کے بقایا جات ہیں جس پر فوری طور پر وزیراعظم کے علم میں یہ معاملہ لایا گیا  اور ترجیحی بنیادوں پر یہ ادائیگی کی گئی، آج شہدا فیملی کا معاوضے کی مد د میں کوئی بقایا جات نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ  اسلام آباد پولیس میں کئی سال سے پولیس کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوا ،ہم نے آتے ہی 1700 پولیس جوانوں کی بھرتی  کی اس میں 208 خواتین ہیں ۔

 آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ پولیس محکمہ کے جتنے مطالبات اس ایک سال میں مکمل ہوئے یہ بھی ایک ریکارڈ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پولیس میں خواتین کی تعداد بڑھنی چاہیے ، میری خواہش ہے کہ ایک دن ایسا ہوکہ اسلام آباد پولیس کی سربراہی کسی خاتون کے ہاتھ میں ہے ۔