اسلام آباد،9ستمبر (اے پی پی):خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے قراردیا ہے کہ ریاست کی عمل داری پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، پاکستان خطہ اورعالمی فورمز پراپنا اہم اورفعال کرداراداکررہاہے، چین ، امریکا،یورپی یونین، سعودی عرب اورجی سی سی ممالک کے ساتھ بہترتعلقات ہیں، ایس آئی ایف سی کے قیام کے بعد خلیجی ممالک کی جانب سے بھرپوردلچسپی کا اظہارکیا جارہاہے،بندوق اور تشدد کے زور پر کسی کو ایجنڈا مسلط کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، تارکین وطن کے مسائل کے حوالہ سے جلد ایک جامع لائحہ عمل دیں گے، سمگلنگ کے حوالہ سے زیرو ٹالرنس پالیسی اختیار کی جارہی ہے، پاکستان میں رجسٹریشن کا عمل 95 فیصد تک لے جائیں گے۔
ہفتہ کو پی آئی ڈی میں نگران وزیراطلاعات مرتضٰی سولنگی ، نگران وزیرداخلہ سرفرازبگٹی، وزیرقانون عرفان اسلم اوردیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ جلیل عباس جیلانی نے بتایا کہ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ہونے والے اجلاس میں شرکاء کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالہ سے معاملات پربریفنگ دی گئی ۔شرکا ء کو پاکستان کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات پربریفنگ دی گئی اورانہیں بتایا گیا کہ پاکستان فعال سفات کاری پرعمل پیراہے، خطہ اوردنیا میں ہمارے تعلقات مضبوط ہورہے ہیں، چین کے ساتھ پاکستان کے ساتھ تاریخی ،گہرے اور برادرانہ تعلقات ہیں جومزید مضبوط ہورہے ہیں ۔
وزیرخارجہ نے کہاکہ امریکا کے ساتھ تعلقات مثبت اندازمیں فروغ پارہے ہیں، سعودی عرب مشرق وسطیٰ اوروسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بھی ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔افریقہ ایک اہم براعظم کے طورپرابھررہاہے، افریقہ پالیسی کے تحت اقتصادی تعلقات کوفروغ دینے پربات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یورپی یونین پاکستان کاہم تجارتی اورسرمایہ کاری میں اہم شراکت دارہے، ان تمام ممالک کے ساتھ پاکستان کی تجارت میں اضافہ ہواہے، امریکا کے ساتھ تجارت 12 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی ہے۔جی سی سی کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کونسل کابنیادی مقصد تمام بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی مشکلات کودورکرنا ہے، اس میں زراعت، توانائی اورمائننگ پرتوجہ دی جارہی ہے۔ کونسل کے قیام کے بعد جی سی سی اورکئی دیگرممالک کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کی خواہش کااظہارکیاگیاہے۔ کونسل کے تحت ملک میں کاروبارمیں آسانی پیداکی جائیگی اورسرمایہ کار آسانی کے ساتھ کاروبارشروع کرسکیں گے اورانہیں تمام سہولیات فراہم کی جائیگی، وزیراعظم نے طویل المعیاد ویزہ دینے کی بھی بات کی ہے۔ ہمارے مشنز کی کوشش ہے کہ کونسل کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کی جائے۔میری تعیناتی امریکا اوریورپ میں رہی ہے، سمندرپارپاکستانی اپنے ملک کی تعمیروترقی کیلئے کوشاں ہے۔
ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ اچھے فیصلوں کو جاری رکھا جارہاہے۔ سمندرپارپاکستانیوں کی زمینوں پرقبضہ کے حوالے سے آئندہ ہفتے اہم اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ سمندرپارپاکستانی ہمارا اثاثہ ہے اورانہیں تمام سہولیات فراہم کرنے میں پرعزم ہیں۔ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ یورپی ممالک میں پڑھائی کیلئے جانیوالے طالب علموں کے مسائل کے حوالہ سے تمام متعلقہ ممالک کے سفیروں سے بات کی ہے۔
بھارت اورخطہ کے ممالک کے ساتھ تجارت سے متعلق سوال پرانہوں نے کہاکہ سارک کے تحت معاہدے ہوئے ہیں لیکن سب کومعلوم ہے کہ کونسا ملک ہے جواس حوالہ سے رکاوٹیں ڈال رہاہے، ہندوستان کے علاوہ خطہ کے دیگرممالک کے ساتھ ہمارے بہترین تجارتی تعلقات ہیں۔افغانستان، بنگلہ دیش اوردیگرممالک کے ساتھ ہمارے اچھے تجارتی تعلقات ہیں۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان گروپ 20 کا رکن نہیں ہے۔ پاکستان تنہا نہیں ہے، پاکستان کا خطہ میں اہم مقام ہے۔ پاکستان عالمی فورمز پراہم کردار اداکررہاہے۔ انہوں نے کہاکہ ایس آئی ایف سی کے قیام کے بعد خلیجی ممالک کی جانب سے بھرپوردلچسپی کا اظہارکیا جارہاہے۔ سی پیک کامیاب منصوبہ ہے۔اس منصوبہ کے بعد پاکستان میں توانائی کی فراہمی میں اضافہ ہوا، بنیادی ڈھانچہ میں نمایاں بہتری آئی۔ سی پیک کی وجہ سے ہمارے تین لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کوروزگارملا، دوسرے مرحلہ میں مزید بہتری آئیگی۔انہوں نے کہاکہ چترال میں ہونے والے حملوں پرپاکستان نے پرزوراحتجاج کیاہے، کل افغان ناظم الامورکودفترخارجہ طلب کرکے یاداشت حوالہ کی گئی۔ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پرحملہ کو روکنا افغان حکومت کی ذمہ داری ہے۔ کابل میں پاکستانی سفیر کاافغان حکام کے ساتھ مسلسل رابطہ ہے اورہمارا مطالبہ ہے کہ اس طرح کے وقعات کو روکا جائے۔ نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ آج خصوصی سرمایہ کاری کونسل کا طویل اجلاس ہوا جس میں وزارت داخلہ کی جانب سے بھی کچھ بریفنگز دی گئیں اور اس پر فیصلے بھی ہوئے، اس میں ویزا پالیسی سب سے اہم تھی کیونکہ طویل عرصہ سے ویزا پالیسی مرتب نہیں ہو رہی تھی، اس ویزا پالیسی کیلئے وزارت داخلہ نے بہت محنت کی ہے اور اسے کاروبار دوست بنایا ہے۔
م اورفعال کرداراداکررہاہے، انہوں نے بتایا کہ اس پالیسی کے تحت کوئی بھی کاروباری شخص جو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے اس کا اپنا ملک اسے دستاویز جاری کرے تو اس کو فوری ویزا کا اجرا کردیا جائے گا۔ وہ سرمایہ کار اپنے ساتھ اگر معاون سٹاف لانا چاہتا ہے اس کو بھی آسان شرائط کے ساتھ ویزا کے اجرا کی منظوری دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ چیمبر آف کامرس یا دیگر چیمبرز کسی کاروباری سرگرمی کیلئے کسی فرد کی آمد کے حوالہ سے اجازت طلب کریں گے تو اسے فوری طور پر اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ سمگلنگ کے خلاف بھرپور مہم چل رہی ہے جس میں ایف سی، آئی بی سمیت انٹیلی جنس ادارے معاونت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ نیکٹا بھی مدد کر رہی ہے۔وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت تمام ادارے مل کر ڈالر،کھاد، چینی، آئل، گندم سمیت دیگر اجناس کی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے کردار ادا کر رہے ہیں اس سمگلنگ سے ملک کو نقصان ہو رہا ہے۔ یہ سمگلنگ کافی عرصہ سے ہو رہی تھی، افغان ٹریڈ میں بھی اس کا بڑا عنصر شامل ہے۔ آنے والے دنوں میں اس مہم میں مزید کامیابیاں حاصل ہوں گی اس حوالے سے زیرو ٹالرنس ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں غیرقانونی تارکین کے حوالہ سے بھی پہلی بار پالیسی مرتب کی گئی ہے کہ کس طریقہ سے اور کن مراحل میں انہیں ان کے اپنے وطن میں واپس بھیجیں اور وہ کس بنیاد پر وہ یہاں رہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نادرا کے پاس آبادی کا 78 فیصد رجسٹرڈ ہے جو دنیا میں بلند ترین ہے اور اس حوالہ سے پاکستان ٹاپ ٹین ممالک میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے آج یہ ٹاسک دیا ہے کہ اسے ہم نے 95 فیصد تک لے جانا ہے، اس کیلئے ٹاسک فورس بنائی ہے جو نادرا کے ساتھ سہ ماہی بنیادوں پر مشاورت کرے گی، نادرا موٹر بائیکس یونٹ بنا رہا ہے، موبائل یونٹس میں اضافہ کر رہا ہے جو گھر گھر جاکر رجسٹریشن کریں گے بالخصوص سکول جانے والے بچوں کیلئے لازمی قرار دیا ہے کہ سکول میں داخلہ فارم ب کی بنیاد پر ملے گا۔ ان اقدامات پر کام ہو رہا ہے۔
انہوں نے امن و امان اور دہشت گردی کے حوالہ سے بتایا کہ یہ کوئی بڑا چیلنج نہیں ہے اس سے پہلے بھی اس چیلنج کا سامنا کیا ہے، ہماری سیکورٹی فورسز اور عوام نے اس چیلنج سے نمٹا ہے، ہم نے دہشت گردوں کو اس سے پہلے بھی اس جنگ میں شکست دی ہے اور مجھے یقین ہے کہ ہمارے اندر یہ صلاحیت موجود ہے کہ ہم ان دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے جو معصوم لوگوں کا قتل و غارت کرتے ہیں جو سیکورٹی فورسز پر حملے کرتے ہیں، بندوق اور تشدد کے زور پر کسی کو اس کا ایجنڈا مسلط کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ مذہب، قوم پرستی، سیاسی بنیادوں پر تشدد یا اجارہ داری برداشت نہیں کی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوئی سے سبی فٹ بال میچ کیلئے جانے والے 18 بچے دہشت گردوں نے اغوا کیا ان میں سے چھ بچوں کو اپنے ٹھکانے کی طرف لے گئے ہیں، فرنٹیئر کور بلوچستان، بلوچستان لیویز اور بلوچستان پولیس کمشنر سبی کی سربراہی میں سرچ آپریشن کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ ان کے ٹھکانے تک پہنچیں گے اور دہشت گردوں کو اس گھنائونے جرم کی سزا ضرور ملے گی۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ صدر پاکستان ایک آئینی عہدہ ہے ، وہ پاکستان افواج کے سپریم کمانڈر ہیں، وہ اپنا دور مکمل کرچکے ہیں، توقع ہے کہ وہ آج بھی بڑوں کی طرح کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ کے خلاف مہم کا ویزا پالیسی سے کوئی تعلق نہیں، سمگلر ویزا ہو یا نہ ہو وہ غیرقانونی کارروائیاں کرتا ہے ،چاہے ملک کے اندر سمگلنگ ہو یا ملک سے باہر اس حوالے سے زیرو ٹالرنس ہے۔افغانستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، ہم ویزا کو فروغ دینا چاہتے ہیں، ہمارا شہری ایک پراسس کے تحت دوسرے ملک جاتا ہے تو ہماری خواہش ہے کہ دوسرے ملک سے آنے والا بھی ہمارا مہمان ہوگا، وہ ویزا سے آئے گا، یہ کاروبار دوست ویزا ہر ایک کیلئے ہوگا، یہ کسی خاص ملک کیلئے نہیں ہے۔ اس میں کوئی تفریق نہیں ہے۔
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جو بھی بہتر پالیسی ہے اسے جاری رکھیں گے۔ پاکستانی تارکین وطن کے ویزا، شناختی کارڈ، زمینوں پر قبضوں سمیت تمام مسائل کے حوالہ سے آئندہ ہفتے مکمل اور جامع لائحہ عمل دیں گے۔ انہوں نے پاکستانی تارکین وطن کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ہمارا اثاثہ ہیں، ان کو سہولیات کی فراہمی ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے، ریاست املاک قبضہ مافیا کے خلاف کھڑی ہوگی، ریاست پاکستان اور حکومت پاکستان کی حیثیت سے اپنے اس اثاثے کو ہرممکن سہولت فراہم کریں گے، ان کے اعتماد کو ان چھوٹے چھوٹے مسائل کی وجہ سے نقصان نہیں ہونے دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بھتہ خوری کے حوالہ سے شکایات میں کافی حد تک کمی آئی ہے، کسی سرمایہ کار کی جانب سے دہشت گردوں کے لئے سرمایہ کاری سے قبل حصہ رکھنے کی باتوں میں صداقت نہیں ہے۔ حکومت کی رٹ کو چیلنج نہیں کرنے دیا جائے گا۔ یہ کاروبار کیلئے انتہائی ضروری ہے۔ اس حوالہ سے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے سٹاپ لسٹ کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے یہ ہماری کاروبار دوست اور سرمایہ کاری کیلئے سازگار ماحول کی کاوشوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے ہم اس کی تردید کرتے ہیں تاہم ڈالر کی اسمگلنگ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے خواہ وہ کوئی بھی کرے۔ ہماری ایکسچینج کمپنیوں اس میں کس حد تک ملوث ہیں اس کو دیکھنا ہوگا اس پر اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے معلومات لے رہے ہیں، ہم عجلت میں ایسا کوئی کام نہیں کریں گے جس سے پاکستانی کمیونٹی یا تاجروں کو کوئی نقصان ہو، ہمارے لئے سب سے اہم پاکستان اور اس میں رہنے والے لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نادرا اپنے اخراجات اپنے وسائل سے پورے کرتا ہے۔ دنیا کے 72 ممالک میں ڈیجٹیل مردم شماری ہوتی ہے، ہمیں بھی اسی طرف جانا ہے، وہ تنازعات سے پاک ہوگی، اس کیلئے 100 فیصد رجسٹریشن کی جانب جانا ہوگا، مستقبل میں تاکہ نادرا ہی ہمیں مردم شماری کرکے دے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سرمایہ کار اپنا منافع بھی دیکھتا ہے وہ ایک منصوبہ بندی کے ساتھ آتا ہے، پی آئی اے سمیت خسارے میں چلنے والے اداروں کے حوالے سے وزارت خزانہ کلیدی کردار ادا کررہی ہے، وہ اس حوالہ سے سٹڈی کر رہی ہے جس کے نتائج جلد سامنے آئیں گے، ملک کیلئے نقصان دہ اداروں کی نجکاری کی طرف جا رہے ہیں اس میں غیرملکی سرمایہ کار یا ملکی سرمایہ کاروں پر کوئی قدغن نہیں، ہم سازگار ماحول دے رہے ہیں، ون ونڈو آپریشن ویزا پالیسی سمیت دیگر سہولیات دی جارہی ہیں۔ یہاں سرمایہ کاری کے حوالے سے بیوروکریسی کی سطح پر حائل رکاوٹیں ہیں اس کو بہتر کرنے کیلئے تمام فریقین کو اعتماد میں لیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوحا معاہدہ افغان حکومت نے کیا ہے ،ہماری یہ توقعات ہیں کہ اس معاہدہ کا احترام کریں گے اور ان کی سرزمین کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سمندرپارپاکستانیزجوادسہراب ملک نے بتایا کہ ے اجلاس میں سمندرپارپاکستانیوں کوسہولیات دینے پربات ہوئی ہے ، پاکستان میں ان کی زمینوں پرقبضہ اورفراڈ کیلئے وزارت داخلہ کے ساتھ مل کرسیل بنارہے ہیں، یہ ماڈل صوبوں میں بھی لاگو ہوگا تاکہ پورے پاکستان میں ان کی زمینیوں پر قبضے کو روکا جاسکے ۔سمندرپارپاکستانیوں کو سفرمیں سہولیات فراہم کررہے ہیں، ورکرز ویلفئیرفنڈ کے کئی منصوبے زیرالتواء تھے، ان میں سے کئی منصوبوں کو دوماہ میں مکمل کریں گے۔
نگران وزیرسائنس وٹیکنالوجی عمرسیف نے بتایا کہ آئی ٹی اہم شعبہ ہے۔اس سے حکومت کے نظام کوڈیجیٹائز کرکے بدعنوانی کاخاتمہ ہوسکتاہے۔ ٹیکس کے نظام کوڈیجیٹائز کرنا ہوگا، اس میں مصنوعی ذہانت کا بڑا کردار ہے، ہماری غیررسمی معیشت کیش پرچل رہی ہے، معیشت کودستاویزی بنانے کے حوالہ سے بھی یہ اہم شعبہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ آئی ٹی کا معیشت کو برآمدی بنانے میں اہم کردار ہوسکتاہے۔اس وقت اس شعبہ کی برآمدات کاحجم 2.6 ارب ڈالر ہے جبکہ استعداد 10 ارب ڈالرہے۔ کئی پاکستانی کمپنیوں کو پاکستان میں ڈالرلانے میں مشکلات ہیں، اس حوالے سے کئی اقدامات پراتفاق ہواہے، آئی ٹی کیلئے خام مال کی فراہمی پربھی توجہ دی جائیگی۔انہوں نے کہاکہ آئی ٹی شعبہ میں دو لاکھ نوجوانوں کوتربیت فراہم کی جائیگی جس سے اس شعبہ میں نمایاں ترقی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ ٹیلی کام انڈسٹری کے حوالہ سے بھی اقدامات ہوں گے۔ فائیو اورسکس جی سپیکٹرم کی نیلامی کیلئے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ملک بھرمیں 5 لاکھ نوجوانوں کوفری لانسنگ کی سہولت فراہم کی جائیگی۔دو لاکھ سافٹ وئیرانجنئیر کی استعدادموجود ہے۔ انہوں نے کہاکہ دوردراز علاقوں میں انٹرنیٹ میں بہتری کیلئے اقدامات بھی کئے جائیں گے۔ ملک میں 5 کروڑ ہینڈ سیٹ اسمبل ہوئے ہیں، ہمیں اس صنعت کوترقی دینے کی ضرورت ہے۔ایک سوال پرانہوں نے کہاکہ ڈیجیٹل پیمنٹس کو آسان بنانے کے بعد بڑے کرنسی نوٹس پرپابندی جیسے اقدامات کامیاب ہوتے ہیں۔پاکستان میں راست کے نام سے کام شروع ہواہے، اسی نظام کو ہم مزید بہتربنائیں گے۔
وزیرقانون وماحولیات عرفان اسلم نے بتایا کہ کونسل کے اجلاس میں پانی اورماحولیاتی تبدیلی کے مسائل کا جائزہ لیا۔ ماحولیاتی تبدیلیوںکی وجہ سے پچھے سال پاکستان کو30 ارب ڈالرکانقصان ہوا، ان مسائل کے حل کیلئے اقدامات تجویز کئے گئے۔ فیصلہ ہواہے کہ کاشت کاروں کی فصلوں کیلئے پانی کی دستیابی کویقینی بنایا جائے۔ پانی کے تحفظ ، دستیابی کے حوالہ سے جامع پالیسی تیارکی جارہی ہے ۔ماحولیاتی تبدیلی کے حوالہ سے دوچیزیں قابل ذکرہے، ہم پاکستان میں کاربن رجسٹری قائم کررہے ہیں، چند ہفتوں میں قائم ہوگا۔ ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالہ سے فنڈ کے قیام کا بھی جائزہ لیا جارہاہے۔آئین میں صدرمملکت اس وقت تک آفس میں رہیں گے جب تک جانشین نہیں آتا۔انہوں نے کہاکہ نگران حکومت آئین کے تحت قائم ہوئی ہے، سیکشن 230 الیکشن ایکٹ کے تحت نگران حکومت کو مینڈیٹ دیا گیاہے جس سے ہم تجاوز نہیں کرسکتے۔ 240 ملین لوگوں کی بہتری کیلئے جوبھی فیصلہ کرنا ہوں گا وہ کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کامعاہدہ ہواہے اوراس معاہدے کوجاری رکھنا پاکستان کے مفادمیں ہے۔











