حیدرآباد، 6ستمبر (اے پی پی): حر مجاہد فورس کے غازی محمد ہاشم ہنگورو نے کہا ہے کہ 1965 ءکی جنگ میں ہم پیر پگاڑا کے حکم پے لبیک کہتے ہوئے وطن عزیز کے دفاع کے لیے دشمن کی فوج سے لڑنے کے لیے اپنے گھر اور بچے چھوڑ کر تھرپارکر کی سرحد پر پہنچ گئے تھے۔
ان خیالات کا اظہار 1965ء اور 1971 ءکی جنگیں لڑنے والے حر مجاہد فورس کے غازی محمد ہاشم ہنگورو نے “اے پی پی” سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر جب بھی کوئی مشکل وقت آتا ہے ہم اپنے مرشد پیر پگاڑا کی آواز پے لبیک کرتے ہوئے سرحدوں پر موجودہوتے ہیں، 1965 ءکی جنگ میں ہم نے پاک فوج کے ساتھ چھاچھرو سے عمرکوٹ بارڈر تک دچمن فوج سے جنگ لڑی اور حر فورس کے جوانوں نے لاٹھیوں، کلہاڑیوں اور بندوقوں سے دشمن ملک اور بڑے بڑے دعوے کرنے والوں کو اس طرح کچل دیا کہ آج بھی خوابوں میں جنگ نظر آتی ہے۔
غازی محمد ہاشم ہنگورو نے بتایا کہ ہمارا مرکزی کیمپ سانگھڑ میں تھا جہاں سے ہم اکٹھے عمرکوٹ کے لیے روانہ ہوئے، ہم نے لاٹھیاں، کلہاڑیاں اور بندوقیں لے کر دشمن کی فوج کے ٹینکوں اور بھاری ہتھیاروں کے سامنے محاذوں پرپہنچے اور دشمن کو شکست سے دوچار کیا۔
اس موقع پر حر جماعت کے رہنما اور مصنف محمد مبین وسان نے کہا کہ حر جماعت نے 6 ستمبر 1965 ءسمیت ہر مشکل وقت میں ملکی دفاع میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حر جماعت نے 1965 ءاور 1971ءکی جنگ میں بھی دشمنوں سے مقابلہ کیا اور کامیاب ہوکر دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ اپنے مرشد کی آواز پے لبیک کہتے ہیں اور کسی بھی مشکل وقت میں ملک کے لیے اپنی جان دینے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔











