اسلام آباد۔11اکتوبر (اے پی پی):نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا ہے کہ سی پیک سے پاکستان اور چین کے درمیان عوامی روابط کو تقویت ملی ہے، تقریباً 28 ہزار پاکستانی طلباءچین میں زیر تعلیم ہیں، پاکستان میں چینی زبان سیکھنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ منگل کو یہاں پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس میں آرٹ نمائش اور ثقافتی شو سے خطاب کرتے ہوئے نگراں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سی پیک کے آغاز کے بعد سے پاکستان اور چین کے درمیان عوامی سطح پر روابط نئی بلندیوں کو پہنچے ہیں، تقریباً 28 ہزار پاکستانی طلباءچین میں زیر تعلیم ہیں، تعاون کا یہ پہلو بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو فریم ورک میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چینی زبان سیکھنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اس حوالے سے پنجاب یونیورسٹی، نمل یونیورسٹی جیسے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں انسٹیٹیوٹ بھی قائم کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی طلباء چینی زبان سیکھنے اور پروفیشنل ڈگری/ڈپلومے کے حصول کے لئے چینی حکومت کے وظائف پر چینی یونیورسٹیوں میں بھی زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے فنکار آرٹ کی نمائشوں کے ذریعے اپنے فن پاروں کی نمائش کے لئے اکثر ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین نے 2022 میں مشترکہ اعلامیہ میں مضبوط دوطرفہ تعلقات کے لئے عوامی سطح پر روابط، سیاحت کے شعبہ میں تعاون اور ثقافتی تبادلوں کی اہمیت پر زور دیا، نومبر 2021 میں ہونے والی سیاحتی تبادلوں اور تعاون پر مفاہمت کی یادداشت پر عمل کرتے ہوئے دونوں ممالک نے 2023 میں پاک چین سیاحتی تبادلوں کا سال منانے اور سیاحت کو فروغ دینے والے دونوں ممالک کے اداروں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے کہا کہ مئی 2023 میں پیلس میوزیم میں پاک چین مشترکہ نمائش میں پاکستانی عجائب گھروں سے گندھارا تہذیب کے 173 نمونوں کی نمائش کی گئی جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ ورثے اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ عام لوگوں اور چینی سکالرز کے لئے پاکستان کے ورثہ کے بارے میں بصیرت فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبادلے نئے نہیں ہیں، درحقیقت 138 قبل مسیح سے لے کر ہمارے جدید دور تک شاہراہ ریشم ان کمیونٹیز کے درمیان تبادلے، اثر و رسوخ اور تعاون کے لئے ایک طویل ترین اور مستقل مرکز کی نمائندگی میں کامیاب رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ ریشم سے نہ صرف اجناس کا تبادلہ ہوتا ہے بلکہ اس نے ثقافت کو بھی فروغ دیا ہے۔ مثال کے طور پر بدھ ازم اسی شاہراہ کے ذریعے چین پہنچا، تاجر کارواں کے ساتھ بدھ راہب ہندوستان سے وسطی ایشیاءاور چین گئے۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ ریشم کے ساتھ متعدد شہروں میں بدھ مت کی یادگاریں بھی دریافت ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ قدیم دور میں بدھ مت چین اور پاکستان دونوں میں پروان چڑھا۔ مشہور چینی سیاح اور سکالر ژان زانگ نے ساتویں صدی میں گندھارا تہذیب کے علاقے کا سفر کیا جو اب موجودہ پاکستان ہے۔ انہوں نے اپنے سفر میں مشہور بالا حصار فورٹ وادی سوات کا بھی ذکر کیا جو ایک قلعہ بند شاہی رہائش گاہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکسلا روٹ نے پاکستانی خطے میں اہم کردار ادا کیا ہے جہاں گندھارا آرٹ کے ظہور کے ساتھ ثقافتی سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ خطہ گندھارا اور برصغیر پاک و ہند دونوں 486-522 قبل مسیح تک مغرب کے ساتھ روابط استوار کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔











