پاکستان کیجانب سے فلسطین میں مختصر جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی طرف سے دوبارہ جنگ شروع کرنے کو مایوس کن قرار

40

اسلام آباد،یکم دسمبر(اے پی پی ): پاکستان نے فلسطین میں مختصر جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی طرف سے دوبارہ جنگ شروع کرنے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطین میں قابض اسرائیلی فوج کے جنگی جرائم کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر کاروائی کی جائے  اور جنگ سے متاثرہ فلسطینیوں کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد کا کام تیز کیا جائے۔

جمعہ کو یہاں دفترخارجہ میں ہفتہ وارض اے بریفنگ کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی شیرکشمیر زرعی یونیورسٹی میں کرکٹ ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کی کامیابی پر خوشی منانے کے جرم میں سات کشمیری طلبہ کی گرفتاری قابل مذمت ہے۔ ان بچوں کو انسداد دہشت گردی کے کالے قانون کے تحت گرفتاری سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت ان قوانین کا کس بے دردی سے غلط استعمال کر رہا ہے۔

ترجمان نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے دوبئی میں ہونے والی کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان کی شرکت سے متعلق تفصیل بتائی اور کہا کہ وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کانفرنس میں شرکت سے پہلے متحدہ عرب امارات اور کوئت کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کے رہنمائوں کے ساتھ باہمی تعاون بڑھانے کے حوالے سے نتیجہ خیز گفتگو کی۔ ان ملاقاتوں میں بین الاقوامی امور اور فلسطین کی صورت حال پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان کسی قسم کے سفارتی یا تجارتی تعلقات نہیں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سی پیک منصوبوں اور ان میں کام کرنے والے افراد کے تحفظ اور سلامتی کے لئے ہر ممکن اقدام کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بعض افغان رہنماوں کے پاکستان مخالف بیانات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ افغانستان ایک طویل عرصہ سے مشکل حالات سے گزر رہا ہے ۔اس موقع پر ہم عالمی برادری سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کی تعمیر نو میں مدد کریں۔

افغان مہاجرین کی پاکستان سے واپسی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ واپس جانے والے مہاجرین کی تعداد تسلی بخش ہے اور جتنی بڑی تعداد میں مہاجرین واپس جا رہے ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ واپسی کے عمل میں مہاجرین کی رضامندی شامل ہے۔