اسلام آباد ، 17 جنوری (اے پی پی): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانی، ترقی اور انسانی وسائل کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس کی سربراہی سینیٹر شاہین خالد بٹ اور سینیٹر ذیشان خانزادہ کی موجودگی میں سینیٹر انجینیئر رخسانہ زبیری نے کی۔اجلاس میں سمندر پار پاکستانی ملازمین کو دنیا بھر میں درپیش چیلنجز پر جامع بحث کی گئی۔ اقتصادی امور ڈویژن (EAD) کے سینئر حکام نے اجلاس میں شرکت کی اور پاکستانی افرادی قوت کی فلاح و بہبود کے لیے کمیٹی کے اقدام کو سراہا۔ کنوینر سینیٹر رخسانہ زبیری نے EAD حکام پر زور دیا کہ وہ پاکستانی کارکنوں کی تربیت اور سرٹیفیکیشن کے لیے خاطر خواہ کوششیں کریں۔ای اے ڈی کے ایڈیشنل سیکرٹری نے کمیٹی کو پاکستانی افرادی قوت کے لیے تربیتی سہولیات کو بڑھانے کے لیے متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے ساتھ مل کر مکمل تعاون کا یقین دلایا۔سینیٹر انجینئر رخسانہ زبیری نے اس ہدف پر زور دیا کہ پبلک سیکٹر آرگنائزیشنز کی تربیتی سہولیات کو مربوط کیا جائے تا کہ انہیں مرکزی نظام کے ذریعے ہر کارکن تک آسانی سے رسائی حاصل ہو۔ ضروری تربیت اور سرٹیفیکیشن فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ کئی خلیجی ممالک میں سال 2025 کے بعد افرادی قوت کی خدمات حاصل کرنے کے لیے سرٹیفیکیشن لازم ہوں گے۔کمیٹی نے سمندر پار پاکستانیوں کی مشکلات اور استحصال پر بحث کے دوران اس بات پر ذور دیا کہ پاکستان کی افرادی قوت کو ہنر مند بنانے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی زبانیں بھی سکھائی جائیں تا کہ وہ اپنا مؤقف ہر فورم پر پیش کر سکیں۔