کوئٹہ ، 08 جنوری (اے پی پی ):نگراں وزیر اعلٰی بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی کی زیر صدارت نگراں صوبائی کابینہ کا پانچواں اجلاس پیر کو یہاں منعقد ہوا جس میں انتظامی امور سمیت مفاد عامہ سے متعلق مختلف محکموں کی جانب سے پیش کردہ ایجنڈا پوائنٹس پر اتفاق رائے سے اہم فیصلے کئے گئے، بلوچستان کابینہ نے سال 2023/24 کے لئے گندم کی امدادی قیمت 4300 روپے فی من مقرر کرنے کی منظوری دے دی جبکہ محکمہ صحت میں فرائض کے دوران جاں بحق طبی اسٹاف کو شہید قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا کابینہ نے ملز کو گندم کی فراہمی کی زیر التواء پالیسی 2023 اور گندم پسائی کی قیمت کے تعین کی منظوری بھی دی۔
صوبائی کابینہ نے بلوچستان میں بحالی امن کے لئے ایف سی کی مدت تعیناتی میں چھ ماہ توسیع کی منظوری دی، جبکہ انسداد دہشت گردی فورس کے اہکاروں کے لئے گزشتہ کابینہ سے منظور شدہ سی ٹی ایف الاونس کی توثیق بھی کی گئی بلوچستان کابینہ نے ایس اینڈ جی اے ڈی سے جاری گزشتہ سال کے نوٹیفکیشن میں توسیع کرتے ہوئے سرکاری ملازمت کے لئے عمر کی بالائی حد 43 سال بدستور برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے نگراں وزیر اعلٰی بلوچستان میر علی مردان خان ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان نگراں حکومت اپنے مینڈیٹ کے مطابق بحالی امن، صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد، گڈ گورننس کے قیام، محکموں کی کارکردگی کو بہتر بنا کر سروس ڈلیوری کے موثر نظام کے لئے کوشاں ہے اور نگراں حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو جانی و مالی تحفظ اور ریلیف کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور عوام کو درپیش مسائل و مشکلات کا ازالہ کرکے حکومتی اداروں پر عوام کے اعتماد کو بحال کیا جائے ۔
اجلاس میں نگراں صوبائی وزرائ، مشیران، چیف سیکرٹری بلوچستان سمیت مختلف محکموں کے سیکرٹریز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔











