لاہور 25 جون:( اے پی پی ) میٹرک امتحانات میں نقل کروانے اور بدعنوانی بارے انکوائری کمیٹی نے اپنی سفارشات اور رپورٹ وزارتی کمیٹی کے سامنے پیش کر دی۔
رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں ملوث عناصر کیخلاف سخت ایکشن لیا جا رہا ہے۔ بدعنوانی میں ملوث 64 افراد کیخلاف مقدمات درج جبکہ 56 کو گرفتار کروایا گیا ہے۔ اسی طرح 9700 سپروائزری، امتحانی و نگران عملے کو فوری ذمہ داریوں سے ہٹایا گیا۔ 280 سپروائزری و نگران عملے کے بدعنوانی میں ملوث ہونے پر پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائیاں جاری ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ امتحان میں نقل کرنیوالے 504 طلبہ کیخلاف یو ایم سی کیسز بنائے گئے ہیں۔
صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین نے امتحانات میں نقل کے زمہ داران کے تعین کے حوالے سے قائم کی گئی وزارتی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں وزیر بلدیات ذیشان رفیق، محکمہ داخلہ، ہائیر ایجوکیشن اور سپیشل برانچ کے افسران نےشرکت کی۔ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے کمیٹی کی سفارشات اور اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
مجموعی طور پر پنجاب میں 43 لاکھ 32 ہزار 480 طلباء کیلئے 6483 امتحانی مراکز قائم کیے گئے تھے۔ صوبائی وزیر بلال یاسین کا کہنا تھا کہ آئندہ کسی بھی پرائیویٹ سکول یا کالج میں امتحانی سنٹر نہیں بنے گا۔ آئندہ امتحانات میں تمام پرچوں پر بار کوڈ اور واٹر مارک پرنٹ ہو گا۔ نگران عملہ 2 دن سے زائد کسی بھی امتحانی مرکز میں تعینات نہیں کیا جائے گا۔ سی سی ٹی وی کیمروں اور سپیشل برانچ کے افسران کے ذریعے امتحانی مراکز کی موثر نگرانی ہو گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ طلبہ کی شکایات کے بروقت ازالے کیلئے آن لائن پورٹل اور ہیلپ لائن کا اجراء کیا جائے گا۔ 500 سے کم طلبہ کی موجودگی میں سنٹر نہیں بنایا جائے گا جبکہ تنگ گلیوں میں واقع سکولوں کی بجائے کھلے علاقوں میں سنٹرز بنائے جائیں گے۔ اجلاس میں طلباء اور والدین کو پارکنگ سمیت دیگر مسائل سے بچانے کیلئے ہر ممکن اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی۔