زرعی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی کیلئے بہتر پالیسیاں ترتیب دی جا رہی ہیں،آئندہ مالی سال کا بجٹ کسان دوست ہوگا:  صوبائی وزیر سید عاشق حسین کرمانی

3

لاہور، 25فروری ( اے پی پی ):وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق صوبہ میں زرعی شعبے کی ٹرانسفارمیشن کی جا رہی ہے۔ کاشتکاروں کی خوشحالی اور زرعی ترقی کے لئے بہتر پالیسیاں ترتیب دی جا رہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وزیر زراعت و لائیو سٹاک پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے آج زراعت ہاؤس لاہور میں منعقدہ ایگریکلچر کمیشن کے دوسرے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

 اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری زراعت اُسامہ خان لغاری،سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو اور سیکرٹری لائیو سٹاک پنجاب ثاقب علی عطیل بھی موجود تھے جبکہ ممبر کمیشن رانا سلیم، رانا اعجاز احمد نون، خالد محمود کھوکھر سمیت فوڈ سکیورٹی کمشنر محکمہ زراعت و دیگر محکموں کے اعلیٰ افسران، ترقی پسند کاشتکار شریک ہوئے۔

    اس موقع پر وزیر زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ ایگریکلچر کمیشن کا ماہانہ بنیادپر ایک اجلاس لازمی ہونا چاہیے۔ اس ضمن میں ایگریکلچر کمیشن کے لئے مختلف پینل آف چئیرز مقرر کئے جائیں تاکہ اُن کی سرکاری مصروفیات کے باعث اجلاس میں تعطل پیدا نہ ہو۔

انھوں نے ایگریکلچر کمیشن کے تحت مختلف فصلوں کے مطابق ٹاسک فورس کمیٹیاں بنانے کی ہدایات کیں۔صوبائی وزیر نے نئے پرائس کنٹرول کموڈٹیز کے محکمے کو بھی کمیشن میں شامل کرنے کے احکامات جاری کئے۔ تاکہ فصلوں کی سٹوریج اور قیمتوں کے تعین بارے اُن کی آراء بھی لی جا سکے۔

صوبائی وزیر نے کمیشن کے پرائیویٹ اراکین کو ایک پرفارما پر قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنے بارے بھی ٹاسک سونپا تاکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ان تجاویز کو حتمی شکل دی جا سکے۔

انھوں نے کہا کہ امسال محکمہ زراعت پنجاب نے1 کروڑ62 لاکھ50 ہزار ایکڑ رقبے پر گندم کی کاشت کا ہدف حاصل کر لیا ہے جس سے صوبہ میں فوڈ سکیورٹی یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

صوبائی وزیر زراعت نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے پہلی دفعہ زیادہ گندم اُگاؤ پیکج متعارف کرایا ہے جس سے صوبہ میں گندم کی کاشت ہدف کے مطابق یقینی بنانے میں مددملی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے بذاتِ خود کسانوں کو یقین دلایا کہ گندم کے کاشتکاروں کا نقصان نہیں ہونے دیا جائے گا۔وزیر زراعت پنجاب نے کہا کہ صوبہ میں کاشتکاروں میں فصلوں کے معیاری بیج کی فراہمی کے لئے پنجاب سیڈ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔ امسال کپاس کی اگیتی کاشت کے لئے صوبہ میں 10 لاکھ ایکڑ ہدف مقرر کیا گیا ہے اور 5 ایکڑ یا اُس سے زیادہ کاشت کرنے والے کاشتکاروں کو25 ہزار روپے بذریعہ وزیر اعلیٰ کسان کارڈ فراہم کئے جائیں گے۔یہ پائلٹ پراجیکٹ صوبہ میں کپاس کی بحالی کیلئے معاون ثابت ہو گا۔اس کے علاوہ زرعی ماہرین کی مشاورت سے صوبہ میں ماحولیاتی زونز(Agro Ecological Zones) کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے۔

 وزیر اعلیٰ پنجاب کسان کارڈ کے ذریعے 6 لاکھ کاشتکاروں نے اب تک40 ارب روپے کے بلا سود زرعی قرضہ جات حاصل کئے ہیں۔اس کے علاوہ صوبہ میں زرعی میکانائزیشن کے لئے سروس پروئیڈرز کے تحت ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ گرین ٹریکٹر سکیم کا پہلا مرحلہ اگلے ماہ مکمل ہو جائے گا۔کاشتکاروں کی فنی راہنمائی کیلئے نوجوان زرعی گریجویٹس گزشتہ 6 ماہ سے اپنی خدمات فیلڈ میں سر انجام دے رہے ہیں۔ حکومت پنجاب زرعی ریسرچ کے اداروں اور یونیوسٹیوں کے درمیان ہم آہنگی کیلئے اقدامات کر رہی ہے جس سے زرعی تحقیق کے معیار میں بہتری آئے گی۔اس کے علاوہ زراعت اور کاشتکاروں کے مفاد میں وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر کسانوں کا اپنا بینک بھی قائم کیا جائے گا۔