اسلام آباد،21مئی(اے پی پی):حج آپریشنز کے چیف کوآرڈینیٹر ڈاکٹر مرزا علی محسود نے کہا ہے کہ حکومت اس سال حجاج کرام کو منیٰ میں گزشتہ سالوں کے مقابلے میں بہتر سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صرف 10 لاکھ 50 ہزار روپے میں یہ حج تاریخی طور پر آرام اور خدمات کے لحاظ سے بے مثال ہوگا۔
ڈائریکٹر مکہ عزیز اللہ خان اور کوآرڈینیٹر ذوالفقار خان کے ہمراہ منیٰ میں انتظامات کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر محسود نے کہا کہ اس سال حجاج کو جدید ترین سہولیات میسر ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ 90 فیصد سے زائد انتظامات مکمل ہو چکے ہیں جبکہ باقی چند دنوں میں حتمی کر دیے جائیں گے۔ چیف کوآرڈینیٹر نے کہا کہ حکومتی حج اسکیم زیادہ باکفایت اور آرام دہ ہے۔
میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر محسود نے بتایا کہ روایتی گدوں کی جگہ صوفہ کم بستروں، جپسم بورڈ کی دیواروں اور ایئر کنڈیشنرز کے ساتھ ساتھ ایئر کولرز کا بندوبست کیا گیا ہے۔ انہوں نے جگہ اور آرام کو بڑھانے کے لیے بلند ریکس کے اضافے پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہر مکتب میں ایک مخصوص باورچی خانہ موجود ہے۔ نیز، راہداریوں میں جوتے لٹکانے کے ہینگرز، ڈیپ فریزر اور ریفریجریٹرز لگائے گئے ہیں جبکہ راہداریاں قالین اور اوور ہیڈ شیڈز سے آراستہ کی گئی ہیں۔
چیف کوآرڈینیٹر نے بتایا کہ منیٰ میں پاکستانی حجاج کے لیے 34 مکاتب بنائے گئے ہیں، جن میں ہر ایک میں ڈاکٹر اور پیرامیڈکس موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری انسپکشن ٹیمیں الراجحی کمپنی کی فراہم کردہ سہولیات کی باقاعدہ جانچ پڑتال کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر مکتب میں مخصوص کوآرڈینیٹرز مقرر ہیں جو انتظامات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مشاعر کے ایام میں رہائش گاہوں سے منیٰ روٹ پر 23 ہزار سے زائد بسیں چلائی جائیں گی۔











