پاکستان نے اقوام متحدہ میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں لاپتا افراد کی سنگین صورتحال اجاگر کر دی

11

اقوام متحدہ، 15 مئی ( اے پی پی ): پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا ہے کہ لاپتا افراد کا مسئلہ دنیا بھر میں تنازعات اور مقبوضہ علاقوں، خاص طور پر فلسطین سے لے کر مقبوضہ جموں و کشمیر تک، میں نہایت سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ بھارت نے حالیہ دہشتگردی کے واقعے کو جواز بنا کر 2000 سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا تاکہ ان کی جائز جدوجہدِ حقِ خودارادیت کو مزید کچلا جا سکے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلح تنازعات میں لاپتا افراد سے متعلق قرارداد 2474 پر عملدرآمد پر بریفنگ کے دوران پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے بھارتی مقبوضہ کشمیر میں لاپتا کشمیریوں کی حالت زار پر روشنی ڈالی۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں حالیہ برسوں میں ہزاروں نامعلوم اور بے شناخت قبریں سامنے آئی ہیں۔

سفیر نے بتایا کہ اب تک کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارتی قابض افواج ان افراد کو پہلے اغوا کرتی ہیں، پھر انہیں اذیتیں دے کر قتل کیا جاتا ہے یا بغیر کسی قانونی عمل کے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔

انہوں نے جموں و کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قابض طاقت بھارت، مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہزاروں جبری طور پر لاپتا افراد کے وجود سے انکار کرتی ہے اور 7,000 سے زائد اجتماعی قبروں کی فرانزک تحقیقات کرانے سے گریزاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر (OHCHR) نے 2018 اور 2019 میں جاری کردہ کشمیر سے متعلق اپنی رپورٹوں میں سفارش کی تھی کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تمام اجتماعی قبروں کی آزاد، غیرجانبدار اور قابلِ اعتماد تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔

سفیر عاصم نے کہا کہ لاپتا افراد اور جبری گمشدگیاں تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط مسئلہ کشمیر کی تلخ حقیقت ہیں۔انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے کرب کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ لاپتا افراد صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ والدین ہیں جو کبھی واپس نہ آئے، وہ مائیں ہیں جو اپنے بچوں سے بچھڑ گئیں، وہ نوجوان ہیں جو رات کی تاریکی میں غائب کر دیے گئے، اور وہ بیٹیاں ہیں جن کی تقدیر خاموشی میں دفن ہو گئی۔ ان کی غیر موجودگی ایسا زخم ہے جو کبھی نہیں بھرتا، اور ان کے اہل خانہ امید اور مایوسی کے ایک نہ ختم ہونے والے دائرے میں قید رہتے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ تحقیق اور احتساب کے بارہا مطالبات کے باوجود مقبوضہ جموں و کشمیر میں لاپتا افراد کا مسئلہ مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کے بعد ہزاروں کشمیری نوجوان اغوا کیے گئے، جن میں سے کئی آج بھی لاپتا ہیں۔

انہوں نے غزہ میں جاری انسانی سانحے کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مسلح تنازعات کس طرح لاپتا افراد اور ان کے خاندانوں پر تباہ کن اثرات ڈالتے ہیں، اس کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اکتوبر 2023 سے اب تک 14,000 سے زائد فلسطینی لاپتا ہیں، جن میں سے اکثر تباہ شدہ گھروں کے ملبے تلے دفن ہیں اور ان کی آوازیں بمباری میں ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ سنگین صورتحال فوری اقدامات کا تقاضا کرتی ہے تاکہ ہر لاپتا شخص کا سراغ لگایا جا سکے، خاندانوں کا رابطہ بحال ہو، اور تنازعات کی ہنگامہ خیزی میں کھو جانے والے افراد کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے لاپتا افراد کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی تجاویز پیش کیں، جن میں تمام فریقین بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری کریں، شہریوں کا تحفظ یقینی بنائیں، اور خلاف ورزیوں پر احتساب کیا جائے۔ تمام رکن ممالک باہمی قانونی معاونت اور معلومات کے تبادلے کے ذریعے تعاون بڑھائیں تاکہ لاپتا افراد کا سراغ لگایا جا سکے۔ انسانی امدادی اداروں، بالخصوص ICRC، کو تنازعات والے علاقوں میں آزادانہ رسائی دی جائے تاکہ وہ لاپتا افراد اور ان کے خاندانوں کی مدد کر سکیں۔ لاپتا افراد کا مسئلہ دراصل حل طلب تنازعات کی علامت ہے، ان تنازعات کے حل پر توجہ دینا ہو گی۔لاپتا افراد کے بحران سے نمٹنے کے لیے تنازعات کی روک تھام اور پُرامن تصفیہ ناگزیر ہیں۔

سفیر نے زور دیا کہ لاپتا افراد کے مسئلے کے انسانی پہلو کو سمجھتے ہوئے اجتماعی اقدام کی ضرورت ہے تاکہ متاثرہ افراد کی عزت اور حقوق کو یقینی بنایا جا سکے، اور یہ امر لازم ہے کہ لاپتا افراد کو فراموش نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ مؤثر بین الاقوامی تعاون، قانونی ذمہ داریوں پر حقیقی عملدرآمد، اور انسانی ہمدردی پر مبنی اقدامات ہی اس سنگین انسانی مسئلے سے مؤثر طور پر نمٹنے کے کلیدی عناصر ہیں۔