اقوام متحدہ، 24 جون ( اے پی پی): پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ پاکستان ،افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے تعمیری ،متحرک کردار ادا کرنے کے لیے پُرعزم ہے جبکہ مکالمہ اور سفارت کاری ہی امن اور ترقی کی واحد قابل عمل راہ ہیں۔
افغانستان کی صورتِ حال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی توجہ کے بکھرنے اور دلچسپی میں کمی کے باعث افغان عوام کی حالت مزید بگڑ چکی ہے۔ پابندیوں، ناکارہ بینکاری نظام، کم ہوتی انسانی امداد، دہشت گردی، منشیات، اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں نے صورت حال کو ابتر کر دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغانستان کی معیشت کو مستحکم کرنے،بینکاری نظام کو بحال کرنے، اور افغان مالی اثاثے منجمد کرنے سے متعلق مکینزمز کے جائزے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ اپنی معاشی مجبوریوں کے باوجود، پاکستان عملی روابط پر قائم ہے، جیسا کہ سیکرٹری جنرل کی رپورٹ میں درج ہے، پاکستان افغانستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور اہم درآمدی ذریعہ بھی ہے،ہم تجارت کو وسعت دے رہے ہیں اور علاقائی روابط کے کلیدی منصوبہ جات کو فروغ دے رہے ہیں۔
سفیر نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 19 اپریل کو کابل کا دورہ کیا۔ مئی میں بیجنگ میں پاکستان، افغانستان، اور چین کے وزرائے خارجہ کی سطح پر سہ فریقی مذاکرات کامیابی سے منعقد ہوئے۔ کل ہی ہمارے نائب وزیراعظم نے او آئی سی کانفرنس کے موقع پر افغان وزیر خارجہ سے ملاقات کی۔ ہم ماسکو فارمیٹ اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس جیسے علاقائی فورمز کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ ہم اقوام متحدہ کی کوششوں بشمول دوحہ عمل کا خیر مقدم کرتے ہیں، جو عبوری حکام سے باقاعدہ روابط کے لیے کی جا رہی ہیں۔ سفیر نے کہا کہ افغانستان کے اندرونی مسائل کا اثر پورے خطے پر پڑ رہا ہے۔ پاکستان نے کئی دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کی ہے۔ ہمیں ایران میں اسرائیل کے بلا جواز حملوں کے بعد کی ممکنہ غیر مستحکم صورتحال پر بھی تشویش ہے۔ اگر اس کے نتیجے میں پناہ گزینوں کی ایک اور لہر افغانستان اور پاکستان کی جانب آتی ہے تو یہ افغانستان کی پہلے ہی نازک صورتحال کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔سفیر عاصم افتحار احمد نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ عبوری حکام کو بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھانا ہوں گی۔ ہمیں خواتین اور بچیوں پر جاری پابندیوں پر خاص تشویش ہے، جو نہ صرف عالمی اقدار بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی منافی ہیں۔ مسلم ورلڈ لیگ کی سرپرستی میں جنوری میں منعقدہ مسلم کمیونٹیز میں بچیوں کی تعلیم پر بین الاقوامی کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بچیوں کی تعلیم ایک بنیادی انسانی حق ہے جو اسلامی اصولوں میں جڑا ہوا ہے۔
پاکستان افغان نوجوانوں کے لیےتعلیمی مواقع کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ علامہ اقبال اسکالرشپ پروگرام کے تیسرے مرحلے پر عملدرآمد جاری ہے، جس سے 4500 افغان طلبہ مستفید ہو رہے ہیں، جن میں ایک تہائی خواتین شامل ہیں۔
سفیر نے آگاہ کیا کہ پاکستان ایک مستحکم، پُرامن اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے۔ ہم عالمی برادری کی جانب سے عبوری حکام سے روابط کے لیے حمایت جاری رکھیں گے ۔ تاہم یہ روابط واضح مقاصد، باہمی اقدامات اور ایک حقیقت پسندانہ روڈ میپ پر مبنی ہونے چاہئیں، جو افغانستان کے منفرد سماجی و سیاسی تناظر سے ہم آہنگ ہوں، جو کہ چار دہائیوں پر محیط تنازع کا شکار رہا ہے جبکہ ہمسایہ ممالک کے طور پر، جو تاریخ، جغرافیہ، نسل، زبان، عقیدہ اور ثقافت کے بندھن سے جُڑے ہیں، ہماری تقدیریں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔











