ڈیمز پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہیں، کالا باغ ڈیم پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جائے: محمد احمد

12

اسلام آباد، 10 جون (اے پی پی):  سابق صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اور اسلام آباد انڈسٹریل ایسوسی ایشن محمد احمد نے کہا کہ ڈیمز پاکستان کی معیشت اور سلامتی کی بیک بون ہیں، اور حکومت کو فوری طور پر پانی کے ذخائر کے منصوبوں پر توجہ دینی چاہیے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) میں اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں جب ہر روز سیکیورٹی تھریٹس موصول ہو رہی ہیں، پانی کا مسئلہ ایک قومی سلامتی کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھاشا ڈیم، منگلا ڈیم کی بحالی اور دیگر منصوبے قابلِ تحسین ہیں، مگر اب وقت آ گیا ہے کہ کالا باغ ڈیم پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جائے۔

محمد احمد نے کہا کہ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ واٹر اسٹوریج کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ زراعت اور قومی معیشت کے لیے زندگی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے حکومت کی جانب سے زراعت کے لیے بجٹ میں اضافے کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں اس سال زرعی ترقی کے لیے رقم بڑھا دی گئی ہے، جو خوش آئند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 8.5 لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد قابلِ کاشت رقبہ موجود ہے جسے فوری طور پر زرعی استعمال میں لایا جانا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ زرعی انفراسٹرکچر، نہروں، اور بوٹل نیکس مسائل کو فوری حل کر کے ملک کو زراعت کے ذریعے معاشی استحکام کی جانب لے جایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں کپاس کی پیداوار بڑھائی جائے تو ہمیں بیرون ملک سے کوٹن بیلز درآمد کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی، جس سے ٹیکسٹائل کی صنعت اور برآمدات کو زبردست فروغ ملے گا۔

محمد احمد نے اس امید کا اظہار کیا کہ بجٹ میں زراعت کے لیے کی گئی الاوکیشن آئندہ مالی سال میں ایک مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنے گی۔