کوئٹہ۔ 31 جولائی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیوکے چیئرمین سلیم مانڈی والا اور قائمہ کمیٹی برائےتجارت کی چیئر پرسن انوشہ رحمان نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ نئے تجارتی معاہدہ میں ٹیرف پر بات چیت جاری ہے،امریکہ پاکستان کا روز اول سے ٹریڈ پارٹنر ہے، پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے میں رکاوٹ ایران پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں ہیں،ایوان بالا کی مشترکہ کمیٹی بلوچستان کے تاجروں کے ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارتی مسائل کو حل کرنے کوئٹہ آئی ہے،کوئٹہ چمبر آف کامرس کے تمام تجاویز قابل حل ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعرات کوسینیٹرجان محمد بلیدی،سینیٹربلال مندوخیل، سینیٹر منظور خان اور وزارت تجارت کے حکام کے ہمراہ کوئٹہ چیمبرآف کامرس میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئےکیا۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیوکے چیئرمین سلیم مانڈی والا نے کہا کہ پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے میں رکاوٹ ایران پر عائد عالمی اقتصادی پابندیاں ہیں،ایران کے صدر مسعود پزشکیان بڑے تجارتی وفد کے ساتھ پاکستان آرہے ہیں، بلوچستان میں محرومی کے تاثر کے خاتمے کے لئے کوشاں ہیں، سلیم مانڈی والا نے کہا ہے کہ اگر ہم مشترکہ طور پر بلوچستان کی عوام کی شکایات کا ازالہ نہ کرسکے تو یہ فیڈریشن کی ناکامی ہوگی، بلوچستان کے ایشوز ملک کے لیے اہم ہیں،مسایل کے حل میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے مکمل دلچسپی لی ہے، بلوچستان کے سینٹرز کے ساتھ رابطے میں ہے ۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیوکے چیئرمین سلیم مانڈی والانے کہا کہ ایوان بالا کے ممبران ایک فیڈریشن کے طور پر یہاں کے لوگوں کی محرومی کے خیال کو حل کرنے آئے ہیں، سرحدی تجارت کاروبار کو فروغ دیتی ہے چمن اور تفتان بھی ایوان بالا کی کمیٹی کے ممبران جائینگے سینیٹ کی کمیٹی چاہتی ہے کہ بلوچستان کے تاجروں کے مسائل یہاں حل ہوں۔انھوں نے کہا کہ بلوچستان میں سمگلنگ بند کی ہے بارڈر بند نہیں کی ہے۔سرحدی علاقوں میں ٹوکن سسٹم بحال ہے ایران پر پاپندیوں کی وجہ سے گیس لائن التوا کا شکار ہے گیس پائپ لائن انی چائیے ۔سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ امن امان بہتر کرنا صوبائی حکومت کا کام ہے ۔اس موقع پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائےتجارت کی چیئر پرسن انوشہ رحمان نے کہا کہ کوئٹہ آنے کا مقصد ایران ،افغانستان اور روس کے ساتھ سرحدی تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی اورتاجروں کے مسائل کو حل کرناہے،کوئٹہ چمبر آف کامرس کے تمام تجاویز قابل حل ہیں،بلوچستان کے لوگوں کو کمی کا احساس نہیں ہونا چاہیے، ایوان بالا کی کمیٹی کی سفارشات تاجروں اور تجارت کی آسانیوں کے ہے۔انوشہ رحمان نے کہا کہ سینیٹ کی کمیٹی نے ہدایت دی ہے کہ ایران کے ساتھ باڈر ٹریڈ فہرست ہر نظر ثانی کی جائے اورایران کے ساتھ سرحدی تجارت کا از سر نو جائزہ لیا جائے،وزارت تجارت کے حکام جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیےمقامی زبانوں میں تاجروں کے لیے ایپ بنادے،ہم نے بلوچستان میں وزارت تجارت کے سیکرٹری کو ایل پی جی ٹرمینل اور کولڈ سٹوریج کی تعمیر کے لئے ہدایت دے دئیے ہیں امید ہے کہ آئندہ جب سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے ممبران کوئٹہ آئیں گے تو یہاں تاجروں کے پائے جانے والے مسائل ختم ہوچکے ہونگے۔