کوئٹہ،30 جولائی(اے پی پی): گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ جب تک ہم خواتین کو ان کا صحیح مقام نہیں دیں گے اس وقت تک ہم ترقی نہیں کر سکتے، ہمیں ہنر مند پروگرام کو یونیورسٹیوں کے ساتھ کالجز کی سطح پر شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ باتوں سے زیادہ عملی اقدامات کو ترجیح دینی چاہیے، میچنگ گرانٹس وصول کرنے والی خواتین کی ترقی نہ صرف ان کے خاندانوں کو سہارا دے گی بلکہ اعتماد کی فضا بھی برقرار رکھے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے زراعت میں خواتین، لیڈرشپ اور جدیدیت کے عنوان سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گورنر بلوچستان نے کہا کہ وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے بلوچستان کی طالبات کیلئے سکالرشپس کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان اور حکومت بلوچستان خواتین کے زرعی کردار کو فروغ دینے کیلئے پالیسی سازی، زمین کی ملکیت ، مالیاتی سہولتوں اور جامع مارکیٹ سسٹمز کے قیام کیلئے پر عزم ہے۔گورنر بلوچستان کی حیثیت سے میں ہر ممکن حمایت اور سہولت کی یقین دہانی کرواتا ہوں کہ پی پی اے ایف اور (گراسپ) کی کامیاب حکمت عملیوں کو وسعت دینے کیلئے حکومتی اداروں اور ڈونر ایجنسیوں کے مابین اسٹریٹجک مکالموں کی راہ بھی ہموار کروں گا۔ نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے ملک میں مختلف شعبوں میں خواتین کا کردار زیادہ ہے جب تک ہم خواتین کو ان کا صحیح مقام نہیں دیں گے اس وقت تک ہم ترقی نہیں کر سکتے۔ ہمیں خود بھی عملی طور پر خواتین کو امپاور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ سیمینار صرف مسائل کو اجا گر کرنے کیلئے نہیں بلکہ ان رکاوٹوں کو ختم کرنے کے عزم کی تجدید کا موقع ہے تا کہ کوئی بھی خاتون کسان پیچھے نہ رہ جائے۔ گورنر بلوچستان نے تمام خواتین کاروباری شخصیات کو دل کی گہرائی سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ جن خواتین کو 18 کروڑ 20 لاکھ روپے کے میچنگ گرانٹس کے چیکس دیے جارہے ہیں۔ ان خواتین کی ترقی نہ صرف آپ کے خاندانوں کو سہارا دے گی بلکہ یورپی یونین اور دیگر ڈونرز کا اعتماد بھی مزید مستحکم کرئے گی۔ آخر میں ایک بار پھر میں ہمارے ترقیاتی شراکت داروں بالخصوص یورپی یونین، آئی ٹی سی پی پی اے ایف، اور تمام عملدرآمد کرنے والی تنظیموں بشمول بی آر ایس پی، ایس پی او، اور ترقی فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، انہوں نے کہا کہ جب سے گورنر بنا ہوں خواتین کی ترقی ترجیح رہی ہے یہاں گورنر ہاس میں ملاقاتیوں میں پہلی ترجیح خواتین ہوتی ہیں ۔ حال ہی میں چین کا دورہ کیا وہاں تربیتی پروگراموں کا معائنہ کیا ان سے درخواست کی کہ بلوچستان کے لوگوں کو تربیت فراہم کرئے، صوبے کے 1000 جوانوں کو صحت کے شعبے میں تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ ہمیں ہنر مند پروگرام کو یونیورسٹیوں کے ساتھ کالجز کی سطح پر شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ باتوں سے زیادہ عملی اقدامات کو ترجیح دینی چاہیے، وفاقی و صوبائی حکومتیں ہمارے صوبے کے لوگوں کو پر امن ماحول فراہم کرے تاکہ یہی لوگ عملی کردار ادا کر سکیں۔
صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ حکومت بلوچستان وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں حقیقی ترقی کیلئے سنجیدہ ہے، خواتین کے آواز کو مضبوط سے مضبوط تر بنانا ہے۔ ہمیں تمام صوبوں کے کامیاب کہانیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کرنا چاہیے تاکہ ان پر عمل درآمد کیا جا سکے۔ میری وزارت عوام کی امانت ہے۔
صوبائی مشیر ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ بلیدی نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے ساتھ ہنر مند بنانے کی ضرورت ہے۔ ڈونرز کے ساتھ ان مسائل کو اٹھایا گیا ہے خواتین کے حوالے سے پروجیکٹس کو مارکیٹ کے مطابق بنانے سے بہت سے مسائل ختم ہو سکتے ہیں ہمیں زمینی حقائق کو مد نظر رکھنے کے ضرورت ہے۔ خواتین کو سپورٹ کرنا صرف انصاف کا تقاضا نہیں بلکہ معاشی ترقی کے آگے بڑھانا ہے۔
سیکرٹری زراعت نور احمد پرکانی نے کہا کہ پاکستان کی 51 فیصد خواتین کی صلاحیتوں کو ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے بروئے کار لانے کی ضرورت ہے، زراعت سمیت مختلف شعبوں میں خواتین مردوں کے ساتھ مدد گار کے طور پر کام کرتیں ہیں، معیشت میں خواتین کے کردار سے انکار نہیں کیا جا سکتا، ویمن فرینڈلی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
مولانا انوار الحق حقانی نے کہا کہ خواتین کی 4 حیثیت ماں، بہن، بیٹی اور بیوی ہے، اللہ تعالی نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور مرد پر سب سے زیادہ حق ماں کا قرار دیا ہے پھر والد اور باقی رشتہ دار کے حقوق ہیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ،وفاقی وزیر مملکت برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجہیہ قمر، صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی؎ و دیگر افسران بھی موجود تھے۔