اسلام آباد۔22جولائی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اقتصادی امور کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت ہوا جس میں قومی اہمیت کے حامل منصوبوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس کے دوران حکومت بلوچستان کے پلاننگ و ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک افسر کے خلاف عدم تعاون اور کمیٹی کی ہدایات کو نظر انداز کرنے پر سخت نوٹس لیا گیا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے افسر کی جانب سے عدم تعاون پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ سیکرٹری کو ہدایت کی کہ فوری طور پر معطلی کا حکم جاری کیا جائے۔ ہدایت پر فوری عملدرآمد کرتے ہوئے اجلاس کے دوران ہی معطلی کے احکامات جاری کیے گئے۔کمیٹی نے سی اے آر ای سی ٹرنچ-III منصوبے میں ایک نااہل کمپنی کی تقرری پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سینیٹر ابڑو نے 2 جولائی 2025 کو شائع ہونے والی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے شفافیت کے فقدان پر سوالات اٹھائے۔ این ایچ اے کے چیئرمین نے وضاحت دی کہ اخبار میں شائع شدہ مواد این ایچ اے کی پریس ریلیز نہیں تھا، بلکہ نمائندے کے سوالات کے جوابات تھے۔کمیٹی نے این ایکس سی سی کمپنی، اس کے پارٹنرز اور ماضی کے منصوبوں سے متعلق مکمل تفصیلات طلب کیں، بشمول ورک آرڈرز، تکمیل کی اسناد، ادائیگیاں، ایف بی آر ریٹرنز، اور بینک اسٹیٹمنٹس۔کمیٹی نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ پی پی آر اے کی جانب سے دی گئی سفارشات کے باوجود این ایچ اے نے ابھی تک مذکورہ پراجیکٹ کا پروکیورمنٹ عمل معطل نہیں کیا۔اجلاس میں واپڈا حکام نے داسو ہائیڈروپاور منصوبہ سمیت پانچ بڑے ڈیم منصوبوں پر بریفنگ دی۔ داسو منصوبے کی فیز-I میں 2160 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی جبکہ منصوبے کی تکمیل نومبر 2028 تک متوقع ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ منصوبے میں 700 چینی کارکن مصروفِ عمل ہیں اور ان کی سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے سخت ایس او پیز نافذ کیے گئے ہیں۔سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سوال اٹھایا کہ آیا چینی کمپنیوں نے اپنی سکیورٹی خود فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جس پر حکام نے تصدیق کی کہ ماضی میں ایسا کہا گیا تھا اور حالیہ واقعات کے تناظر میں دوبارہ ایسے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔مہمند ڈیم سمیت تمام ہائیڈروپاور منصوبوں کے ٹینڈر اور بولی دستاویزات کمیٹی کو فراہم کیے جائیں۔این ایچ اے کو ہدایت دی گئی کہ این ایکس سی سی ، میسرز ڈائنامک کنسٹرکٹرز اور میسرز رستم ایسوسی ایٹس کے تمام جاری و مکمل منصوبوں کی تفصیلات اگلے ہفتے تک کمیٹی کو پیش کی جائیں۔پی پی آر اے نے آگاہ کیا کہ سی اے آر ای سی منصوبے سے متعلق حتمی سماعت آئندہ ہفتے متوقع ہے۔اجلاس میں سینیٹرز سید وقار مہدی، حاجی ہدایت اللہ خان، فلک ناز، کامران مرتضیٰ، راحت جمالی اور کامل علی آغا نے شرکت کی۔کمیٹی نے عزم ظاہر کیا کہ تمام منصوبوں کی شفافیت، کارکردگی اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی کا عمل مزید سخت کیا جائے گا۔