اسلام آباد، 23 جولائی (اے پی پی): وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران انجینئر امیر مقام کی زیر صدارت خیبرپختونخوا کے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں جرگہ سسٹم اور سول انتظامیہ کو مضبوط بنانے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری، سیکرٹری امور کشمیر ظفر حسن، سپیشل سیکرٹری داخلہ داؤد بڑیچ، سیکرٹری اوورسیز و سابق چیف سیکرٹری شکیل درانی، آئی جی پولیس خیبرپختونخوا سمیت مختلف وزارتوں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد جاری بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ کمیٹی نہ تو کسی آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کر رہی ہے، نہ سابق فاٹا کا انضمام ختم کرنے پر غور ہو رہا ہے اور نہ ہی ایف سی آر کی بحالی زیرِ غور ہے۔ ان تمام حوالوں سے پھیلائی جانے والی افواہیں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دی گئیں۔
کمیٹی کا بنیادی مقصد ضم شدہ اضلاع کے عوام کو فوری، سستا اور مؤثر انصاف فراہم کرنا، ان کی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنانا، اور ان کی انتظامی شمولیت سے متعلق سفارشات مرتب کرنا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ چونکہ ضم شدہ اضلاع خیبرپختونخوا کا آئینی حصہ ہیں، اس لیے یہ سفارشات صوبائی حکومت کو ارسال کی جائیں گی تاکہ ان علاقوں کو صوبے کے دیگر اضلاع کے برابر سہولیات اور حقوق فراہم کیے جا سکیں۔