اسلام آباد، 31 جولائی (اے پی پی ):وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے کہا کہ ملک میں چینی کی ارازں نرخوں پر فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے، ملک میں چینی کا کوئی بحران نہیں ، کچھ حقائق کو صحیح طور پر پیش نہیں کیا جا رہا، چینی کی ایکس مل قیمت 165روپے جبکہ ریٹیل قیمت 173روپے مقرر کی گئی ہے، شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے پر وزیر اعظم نے کمیٹی بنائی ہے، ذخیرہ اندوزوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چینی کی دستیابی کے حوالے سے حقائق کے برعکس تاثر دیا جارہاہے ، چینی گزشتہ 10سال سے درآمد برآمد ہوتی ہے، ملک میں چینی کا کوئی بحران نہیں ، شوگر ایڈوائزری بورڈ میں دیگر وزرا ء اور تمام صوبوں سے شراکت دار بھی ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 68لاکھ میٹرک ٹن چینی کی پیداواررہی ، ہماری ضرورت63لاکھ تھی ، اوپننگ سٹاک ملاکر 13لاکھ سرپلس سٹاک موجود تھا، جب ہم نے برآمد کی اجازت دی قیمت750ڈالر فی ٹن تھی ، اس وقت ملک میں چینی کی قیمت 136روپے تھی ،شوگر ملز مالکان کو دوبارہ مارجن کی اجازت دی ۔ انہوں نے کہا کہ ایکس مل قیمت 140روپے اور ریٹیل پرائس 145روپے مقرر کی ، اس میں مارجن کم تھا پھر بھی ہم نے 2 روپے کی بجائے پانچ روپے ریٹیل پرائس بڑھائی۔ انہوں نے کہا کہ رمضان میں چینی 130روپے فی کلو فروخت ہوئی ہے، اس سال گزشتہ سال کی نسبت زیادہ پیداوار متوقع تھی ، موسمیاتی تبدیلی ہیٹ ویو کی وجہ سے گنے کی پیداوار کم ہوئی، اس وقت چینی کا سٹاک 20لاکھ ٹن دستیاب ہے ، 15نومبر تک سٹاک کافی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے چینی کی قیمتیں بڑھی ہیں، قیمتیں بڑھنے پر ایکشن لیا ،اب ایکس مل قمیت 165روپے مقرر کی گئی ہے ،چینی کی ریٹیل قیمت 173روپے مقرر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دیگر پڑوسی ممالک کا موازنہ کیا جائے تو اس وقت بھارت میں چینی کا منڈی کا ریٹ 150روپے ، بنگلہ دیش میں 177روپے ، فغانستان میں 183 ، ایران میں 250روپے جبکہ پاکستان میں 173 روپے فی کلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں چینی دستیاب ہے اور قیمتیں بھی مناسب ہیں ۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ چینی کی برآمد اکتوبر 2024 میں شروع ہوئی تھی، برآمد شروع ہونے کے 20 دن کے بعد کرشنگ سیزن شروع ہو چکا تھا، حکومت کی طرف سے پانچ لاکھ ٹن چینی درآمد کی اجازت دی گئی، ہم نے ایک لاکھ ٹن کا ٹینڈر جاری کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے گھروں میں چینی کا استعمال 20فیصد ہے ، کمرشل سیکٹر میں چینی کی کھپت 80 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی برآمد کی سمری ای سی سی اور کابینہ میں بھی گئی تھی، جنوری میں 40 ہزار میٹرک ٹن چینی کی ایکسپورٹ روک دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پانچ لاکھ میٹرک ٹن چینی امپورٹ کی اجازت ہے لیکن ہم زیادہ سے زیادہ 3 لاکھ ٹن چینی درآمد کریں گے، چینی کی درآمد پر ہم 150 ملین ڈالر خرچ کریں گے، اس وقت تک ہم نے ایک لاکھ ٹن چینی کی درآمد کا ٹینڈر جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوگر ملز ایسوسی ایشن کے ساتھ دو سے تین ماہ کیلئے ایگریمنٹ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے واضح کہا ہے کہ شوگر مافیا کا اب بندوبست کرنا ہے اور اس حوالہ سے کوئی رعایت نہیں کی جائے گی، ملک میں چینی کی ارازں نرخوں پر فراہمی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے پر وزیر اعظم نے ایک کمیٹی بنائی ہے ۔