پاکستان نے فلسطینی ریاست کے حق میں غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے: نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار

19

نیویارک، 29 جولائی (اے پی پی): نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اقوامِ متحدہ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی بین الاقوامی کانفرنس “فلسطین کے مسئلے کا پرامن حل اور دو ریاستی حل کا نفاذ” سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت، آزاد، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر مربوط ریاست کے قیام کی اصولی اور غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ہو اور القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 75 برسوں سے فلسطینی عوام قبضے، جبری بے دخلی اور اپنے بنیادی حقوق سے محرومی کا شکار ہیں، جن میں خود ارادیت کا ناقابلِ انکار حق بھی شامل ہے۔ یہ طویل ناانصافی نہ صرف سیاسی ناکامی ہے بلکہ اخلاقی داغ اور عالمی امن و سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج غزہ بین الاقوامی قوانین اور انسانیت کے اصولوں کا قبرستان بن چکا ہے۔ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 58 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، جو بین الاقوامی انسانی قوانین، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عالمی عدالتِ انصاف کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹیں، پناہ گزین کیمپوں، اسپتالوں اور امدادی قافلوں کو نشانہ بنانا انسانیت اور قانون کی ہر حد کو عبور کر چکا ہے۔ فلسطینی عوام کو اجتماعی سزا دینے کا سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے اور عالمی برادری کو فوری، بامقصد اور مؤثر اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

انہوں نے غزہ اور تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیرمشروط، فوری اور مستقل جنگ بندی اور اقوامِ متحدہ کی قرارداد 2735 کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے سعودی عرب، قطر، مصر اور امریکہ کی فلسطینی مسئلے پر کی گئی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر زندگی بچانے والی خوراک اور ادویات کی بلا رکاوٹ رسائی اور امدادی ٹیموں کے تحفظ پر زور دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے ریلیف ادارے (UNRWA) کے لیے سیاسی و مالی معاونت کی ضرورت پر بھی زور دیا، جو لاکھوں فلسطینیوں کے لیے زندگی کی امید ہے۔

انہوں نے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے اسرائیل کو جوابدہ بنانے اور بے لگام آزادی کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین پر قبضے کے خاتمے کے لیے ایک حقیقی اور ناقابلِ واپسی سیاسی عمل شروع کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی مسئلہ اقوامِ متحدہ اور عالمی ضمیر کے لیے ایک امتحان ہے اور اس کانفرنس سے عملی عہد سامنے آنا چاہیے، خصوصاً دو ریاستی حل کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کیا جائے جو پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔

نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ عالمی برادری کو اسرائیل سے غزہ سے فوری انخلا کا مطالبہ کرنا چاہیے، غزہ کی تعمیرِ نو اقوامِ متحدہ کی قرارداد 2735 اور او آئی سی عرب منصوبے کے مطابق کی جائے، اور فلسطینی عوام کو بین الاقوامی تحفظ کی فراہمی کے لیے ایک مؤثر نظام اور ان کی ریاستی صلاحیتوں کی تعمیر کے لیے وقت کا تعین کیا جائے۔

انہوں نے فلسطینی سرزمین پر جبری بے دخلی اور آبادیاتی ہیرا پھیری کی ہر کوشش کو مسترد کرنے اور روکنے پر زور دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں غیر قانونی اسرائیلی بستیاں بسانے اور الحاقی کوششوں کی مخالفت کی۔

انہوں نے کہا کہ ہم اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے پر خودمختاری کے دعوے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے کانفرنس میں شریک ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں اور اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت دلوانے کے لیے کردار ادا کریں۔  انہوں نے فرانس کے اس حوالے سے فیصلے کو سراہا اور دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ بھی اس عالمی مہم کا حصہ بنیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کو صحت، تعلیم، انتظامی امور اور عوامی خدمات کے شعبوں میں تکنیکی معاونت اور صلاحیت سازی کی پیشکش کرتا ہے۔ پاکستان او آئی سی عرب منصوبے یا کسی بھی بین الاقوامی تحفظ کے نظام کے تحت ادارہ جاتی ترقی میں کردار ادا کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔