پاکستان کی معیشت و توانائی شعبے میں اصلاحاتی پیش رفت پر سفارتکاروں کو بریفنگ

24

 اسلام آباد، 29 جولائی (اے پی پی ):وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری اور وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے مختلف ممالک کے سفیروں، ہائی کمشنرز اور سینئر سفارتکاروں کو پاکستان کی معاشی و توانائی اصلاحات سے متعلق بریفنگ دی۔

اجلاس میں ملک کی معاشی صورتحال، مالی نظم و ضبط، محصولات میں بہتری، اور توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات پر روشنی ڈالی گئی۔ وزراء نے معاشی استحکام، مہنگائی میں کمی، برآمدات و ترسیلات زر میں اضافے، اور کاروباری اعتماد میں بہتری جیسے اہم پہلوؤں پر گفتگو کی۔

وزیر مملکت برائے خزانہ نے بتایا کہ حکومت کی معاشی حکمت عملی کا محور ذمہ دارانہ مالی نظم و نسق، ٹیکس نظام میں بہتری اور عوامی فلاح پر مبنی پالیسیوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے محصولات کے شعبے میں اصلاحات، ڈیجیٹل نظام کے نفاذ، اور ٹیکس نیٹ کے دائرہ کار میں وسعت جیسے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔

اس موقع پر چیئرمین ایف بی آر نے ادارے کی اصلاحات سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خودکار نظام، ڈیجیٹل انوائسنگ، اور بہتر نگرانی سے محصولات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ شفافیت، سہولت اور مؤثر عملدرآمد کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

وفاقی وزیر برائے توانائی نے توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بجلی کی قیمتوں میں توازن، پیداواری نظام میں بہتری اور تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی بہتر بنانے پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بجلی کی طویل المدتی منصوبہ بندی، ترسیل کے نظام کی جدید کاری، اور قابل تجدید توانائی کے فروغ پر زور دیا۔

وزیر توانائی نے اس موقع پر توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع کی نشاندہی کرتے ہوئے عالمی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان میں شراکت داری کی دعوت دی۔ اجلاس میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی بہتری اور نجکاری کے منصوبے کا بھی ذکر کیا گیا۔

دونوں وزراء نے شرکاء کو یقین دلایا کہ حکومت پاکستان معیشت اور عوامی شعبوں میں بہتری کے لیے پائیدار اور جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ اجلاس میں شریک سفارتکاروں نے حکومت کی کوششوں کو سراہا اور اصلاحاتی عمل پر اطمینان کا اظہار کیا۔