اسلام آباد، یکم اگست )اے پی پی):بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے زیر اہتمام تعلیمی میدان میں شاندار کامیابیاں حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک خصوصی تقریب بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ یہ تقریب اُن بچوں اور ان کے خاندانوں کے لیے ایک اعزازی موقع تھی جنہوں نے بینظیر تعلیمی وظائف پروگرام کے تحت مالی معاونت حاصل کرتے ہوئے غیر معمولی تعلیمی کامیابیاں سمیٹیں۔
ملتان کی 15 سالہ طالبہ مریم بی بی، جنہوں نے ملتان بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی، نے اپنی کامیابی کو پوری قوم کے لیے باعثِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف میری نہیں، بلکہ قوم کی کامیابی ہے۔ میں گزشتہ ایک سال سے بینظیر تعلیمی وظائف پروگرام سے مستفید ہو رہی ہوں، اور یہ کامیابی والدین، اساتذہ اور بی آئی ایس پی کی مرہونِ منت ہے۔
اسی تقریب میں بہاولنگر کے حافظ اسد رضا، جن کے والد بس کنڈکٹر ہیں اور جو ایک بڑے خاندان کی کفالت کرتے ہیں، نے بہاولپور بورڈ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے پر سامعین سے داد وصول کی۔ اسد نے سادہ مگر پر اثر الفاظ میں کہا کہ اگر بی آئی ایس پی کا تعاون نہ ہوتا، تو تعلیم جاری رکھنا ممکن نہ ہوتا۔
تقریب میں ملتان بورڈ کی تیسری پوزیشن ہولڈر مومنہ فاطمہ اور خیبر پختونخوا کے ضلع کرک سے تعلق رکھنے والی مہوش کی کامیابیوں کو بھی سراہا گیا۔ مہوش کی کامیابی خاص طور پر اس لیے نمایاں تھی کہ وہ ایک ایسے علاقے سے تعلق رکھتی ہیں جہاں بچیوں کی تعلیم کو متعدد سماجی و مالی رکاوٹوں کا سامنا ہوتا ہے۔
بی آئی ایس پی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کامیابیوں کو “پاکستان کی بیٹیوں کی عظمت اور استقامت کا مظہر” قرار دیا۔
“یہ بچے شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے اس خواب کی تعبیر ہیں جس میں ہر پاکستانی بچے کو تعلیم، عزت اور آگے بڑھنے کا حق حاصل ہو۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی کی پالیسی، جس میں خواتین کو گھرانے کی سربراہ تسلیم کیا گیا، آج اپنے ثمرات دے رہی ہے۔
سیکرٹری بی آئی ایس پی، عامر علی احمد نے تقریب میں اپنے خطاب میں بتایا کہ اس وقت 1 کروڑ سے زائد خاندان بی آئی ایس پی کے نیٹ ورک کا حصہ ہیں جبکہ 1 کروڑ 20 لاکھ سے زیادہ بچے بینظیر تعلیمی وظائف سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ طلباء نہ صرف پاکستان کا فخر ہیں بلکہ بی آئی ایس پی کے سفیر بھی ہیں۔
تقریب میں شریک طلباء نے بی آئی ایس پی، اپنے والدین اور اساتذہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ کر ملک و قوم کی خدمت کریں گے۔